30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضور بڑی مشکل سے دریا کو پانچ سو روپیہ میں راضی کرکے شہر سے دفع کیا تو انہیں دعائیں اور انعام دیئے،عالمگیر بادشاہ نے کہا حضور یہ کیا فرمایا مسلمان جھوٹ نہیں بولتے یہ لوگ مسلمان ہیں سچ کہتے ہوں گے حضرت آدم علیہ السلام نے شیطان سے دھوکا کھایا شیطان چالاک نے دھوکہ دیا یہ ہے کریم اور لئیم میں فرق۔
۲؎ خب بمعنی چالاک دھوکاباز اس کا نتیجہ ہے لئیم ہونا جس مسلمان میں یہ عیوب ہوں وہ ان سے توبہ کرے کہ یہ کفار کے عیب ہیں،کسی کو چالاکی سے پھانس لینا کمال نہیں پھنسے کو نکال لینا کمال ہے۔
|
5086 -[19] وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُونَ هَيِّنُونَ لَيِّنُونَ كَالْجَمَلِ الْآنِفِ إِنْ قِيدَ انْقَادَ وَإِنْ أُنِيخَ عَلَى صخرةٍ استَناخَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ مُرْسلا |
روایت ہے حضرت مکحول سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ۱؎ مؤمن لوگ نرم دل نرم طبیعت ہوتے ہیں جیسے نکیل والا اونٹ ۲؎ اگر چلایا جاوے تو اطاعت کرے اور اگر پتھر پر بٹھایا جاوے تو بیٹھ جاوے ۳؎(ترمذی مرسلًا) |
۱؎ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ مکحول تابعی ہیں صحابی نہیں لہذا صحابی کا ذکر نہیں ہوا مگر چونکہ مکحول بڑے عالم ثقہ ہیں اس لیے ان کا ارسال قبول ہے،جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے تو حضرت مکحول کا ارسال کیوں نہ معتبر ہو۔
۲؎ یعنی مؤمن زبان کا بھی نرم ہوتا ہے دل کا بھی نرم اور وہ الله رسول کے ہاتھ میں ایسا ہوتا ہے جیسے نکیل والا اونٹ اپنے مالک کے قبضہ میں۔انف الف کے فتحہ نون کے کسرہ سے یہ بنا ہے انف بمعنی ناک سے،انف وہ اونٹ جس کی ناک میں نکیل اور نکیل مالک کے ہاتھ میں ہو۔
۳؎ یعنی مؤمن الله رسول کے احکام پر بلا جرح قدح سرجھکا دیتا ہے خواہ احکام نرم ہوں یا سخت وجہ نہیں پوچھتا کہ یہ حکم کیوں ہے۔
|
5087 -[20] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي لَا يُخَالِطُهُمْ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وابنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا وہ مسلمان جو لوگوں میں ملا جلا رہے اور ان کی تکلیف پر صبرکرے اس سے افضل ہے جو نہ ان سے ملا جلا رہے اور نہ ان کی ایذاء پر صبرکرے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی مسلمان دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں خلوت بہتر ہے،بعض وہ جن کے لیے جلوت افضل ان دونوں میں جلوت والے افضل ہیں کیونکہ خلوت والے صرف اپنی اصلاح کرتے ہیں اور جلوت والے دوسروں کوبھی درست کرتے ہیں۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ تم دنیا میں اپنے دوست زیادہ بناؤ کہ کل قیامت میں مؤمن دوست شفاعت کریں گے اور آپ نے اپنی تائید میں یہ آیت پڑھی"فَمَا لَنَا مِنۡ شٰفِعِیۡنَ وَلَا صَدِیۡقٍ حَمِیۡمٍ"کہ کفار اپنے لیے شفیع اور دوست نہ ملنے پر افسوس کریں گے مگر خیال رہے کہ بعض لوگوں کے لیے،نیز بعض حالات میں،نیز بعض مقامات پر خلوت افضل ہوتی ہے اگر جلوت میں خود اپنے آپ گناہوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہو تو خلوت بہتر،حضرت وہب فرماتے ہیں کہ حکمت دس حصے ہیں نو خاموشی میں ایک خلوت میں۔(مرقات)بہتر یہ ہے کہ کبھی خلوت اختیارکرے کبھی جلوت خیر الامور اوسطہا،عربی میں تنہائی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع