30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5074 -[7] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میرا بڑا پیارا تم میں سے ۱؎ اچھی عادت والا ہے ۲؎(بخاری) |
۱؎ یعنی سارے مسلمانوں میں مجھے بڑا پیارا مسلمان وہ معلوم ہوتا ہے مجھے اس سے بڑی محبت ہے جس کے اخلاق پاکیزہ خصلت اچھی ہے۔اگر حضور کا پیارا بننا ہے تو خوش خلقی اختیارکرو۔
۲؎ اچھی عادت والا بندہ الله تعالیٰ کو پیارا ہے،اس کے حبیب کو پیارا،مخلوق کو پیارا،دنیاوی معاملات میں نہایت نرمی دین میں نہایت پختگی و سختی،یہ ہے خلق محمدی اسی کی یہاں تعلیم ہے۔افسوس! کہ آج ہم رفع یدین،آمین بالجہر،قراءت خلف الامام کے مسائل پر سر پھوڑے جاتے ہیں اگر یہ اعمال سنت ہیں تو کیا اخلاق محمدی سنت نہیں ان پر بھی ہم کو توجہ دینا چاہیے۔
|
5075 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أحسنَكم أَخْلَاقًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جو تم میں اچھے اخلاق والے ہوں ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں احسانکم اخلاقًا ہے مگر صحیح تر یہ ہی ہے کہ احسنکم اخلاقًا ہے یعنی مسلمانوں میں اچھا وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اخلاق کے معنی ابھی عرض کیے جاچکے ہیں۔اخلاق،مداہت فی الدین،اپنے کو ذلیل کر لینا ان تینوں میں فرق ہے۔اسلامی اخلاق اچھے ہیں،دین میں پلپلا پن اور اپنے کو ذلیل کرلینا براہے۔
|
5076 -[9] عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِي حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ حُرِمَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ».رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جسے نرمی میں سے اس کا حصہ دیا گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی میں سے حصہ دیا گیا ۱؎ اور جو نرمی کے حصہ سے محروم رہا وہ دنیا و آخرت کی بھلائی کے حصے سے محروم رہا ۲؎(شرح سنہ) |
۱؎ الله تعالیٰ نے جیسے دنیاوی جسمانی روزیوں میں بندوں کے مختلف حصے رکھے ہیں اسی لیے کوئی امیر ہوتا ہے،کوئی فقیر،کوئی دبلا،کوئی بیمار،کوئی موٹا طاقتور اور تندرست،اسی طرح اس کریم نے روحانی ایمانی روزیاں پیدا فرمائیں اور ان میں اپنے بندوں کے مختلف حصے رکھے۔یہاں ارشاد ہوا کہ جس کو لطف و کرم نرمی طبیعت سے زیادہ حصہ ملا اسے دوسری نعمتوں سے بھی کافی حصہ ملے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع