30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دے وہ عجز ہے حیاء نہیں۔اس معنی سے یہ حدیث پاک بالکل واضح ہوگئی واقعی یہ حیا تو گویا ایمان ہی ہے خیر ہی ہے۔ (مرقات و اشعہ)
|
5072 -[5] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحى فاصنعْ مَا شئْتَ " رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ پچھلی نبوت کا جو کلام لوگوں نے پایا ان میں سے یہ ہے کہ جب تو حیاء نہ کرے تو جو چاہے کر ۱؎ (بخاری) |
۱؎ یہ کلام بمعنی چیز ہے یعنی گزشتہ انبیاءکرام نے اپنی امتوں سے جو حکیمانہ کلام فرمائے ان میں سے ایک یہ کلام شریف بھی ہے کہ جب تیرے دل میں الله رسول کی اپنے بزرگوں کی شرم و حیاء نہ ہوگی تو برے سے برے کام کر گزرے گا کیونکہ برائیوں سے روکنے والی چیز تو غیرت ہے جب وہ نہ رہی تو برائی سے کون روکے،بہت لوگ اپنی بدنامی کے خوف سے برائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں نیک نامی بدنامی کی پرواہ نہ ہو وہ ہر گناہ کر گزرتے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے
اذا لم تخش عاقبۃ اللیالی ولم تستحی فاصنع ماتشاء
فلا و الله ما فی العیش خیر وفی الدنیا اذا ذھب اللیالی
|
5073 -[6] وَعَن النَّواس بن سمْعَان قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ: «الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَن يطلع عَلَيْهِ النَّاس» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت نواس ابن سمعان ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا ۲؎ تو فرمایا نیکی اچھی عادت ہے۳؎ اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں چبھے اور تو یہ ناپسند کرے کہ اس پر لوگ خبردار ہوں ۴؎(مسلم) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ بنی کلب سے ہیں،بعض نے فرمایا کہ آپ انصاری ہیں،آخر میں شام میں قیام فرمایا۔ مرقات نے فرمایا کہ آپ اصحاب صفہ سے ہیں،اشعہ نے فرمایا کہ آپ کی والدہ کلابیہ سے حضور نے نکاح کیا اور طلاق دے دی اور کلابیہ عورت آپ کی والدہ ہی تھیں۔(اشعہ)
۲؎ یعنی نیکی اور گناہ کی پہچان کیا ہے مجھے کیسے پتہ لگے کہ یہ کام نیکی ہے اور یہ کام گناہ ہے مجھے ارشاد فرمائیں۔
۳؎ اچھی عادت عام ہے مخلوق کے ساتھ برتاوا اور خالق سے معاملات سب ہی کو شامل ہے نماز روزہ کی پابندی اچھی عادت ہے گناہوں سے بچنا اچھی عادت ہے وغیرہ ۔
۴؎ یہ فرمان کامل مسلمانوں کے لیے ہے جیسے ہم کو مکھی ہضم نہیں ہوتی فورًا قے ہو جاتی ہے یوں ہی صالحین کو گناہ ہضم نہیں ہوتا فورًا انہیں دلی قبض روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے عام لوگوں کا یہ حال نہیں۔بعض تو گناہ پر خوش ہوکر اعلان کرتے ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم حکیم مطلق ہیں ہر شخص کو اس کے مطابق دواء عطا فرماتے ہیں،یوں ہی الناس سے مراد مقبول بندے ہیں۔امام نووی نے حضرت وابعہ ابن معید اسدی سے روایت کی کہ میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نیکی اور گناہ کیا ہوتے ہیں فرمایا اپنے دل سے فتویٰ لیا کرو جسے تمہارا دل نیکی کہے وہ نیکی ہے جسے تمہارا دل گناہ کہے وہ گناہ ہے۔ (اربعین للنووی و مرقات)یعنی تمہارا دل جس پر ہمارا ہاتھ ہے ہر دل کا یہ حال نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع