30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی اگر حقیر آدمی کے دل میں نرمی ہو تو وہ عزیز بن جاوے گا،عظیم الشان آدمی کے دل میں سختی ہو تو وہ حقیر ہوجاوے گا۔ مولانا فرماتے ہیں شعر
دربہاراں کے شود سرسبز سنگ خاک شوتا گل بروید رنگ رنگ
لوہا نرم ہوکر اوزار بنتا ہے، سونا نرم ہوکر زیور، زمین نرم ہوکر قابل کاشت ہوتی ہے، انسان نرم ہوکر ولی بن جاتا ہے۔
|
5069 -[2] وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت جریر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو نرمی سے محروم رکھا گیا وہ بھلائی ے محروم کردیاگیا ۱؎ (مسلم) |
۱؎ جس پر رب مہربان ہوتا ہے اسے نرم دل بنا دیتا ہے،جس پر رب کا قہر ہوتا ہے اسے سخت دل کردیتا ہے،سخت دل میں کسی کا وعظ اثر نہیں کرتا۔
|
5070 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ». |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک انصاری شخص پرگزرے جو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے متعلق نصیحت کررہا تھا ۱؎ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑو ۲؎ کیونکہ حیاء ایمان سے ہے ۳؎ (مسلم و بخاری) |
۱؎ اس سے کہہ رہا تھا کہ تو بہت شرمیلا ہے اتنی شرم نہ کیا کر کیونکہ بہت شرمیلا آدمی دنیا کما نہیں سکتا،یہاں وعظ سے مراد ڈرا کر نصیحت کرنا ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی اسے حیاءوغیرت سے نہ روکو اسے شرمیلا رہنے دو۔
۳؎ خیال رہے کہ جو حیا گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ کی اصل ہے اور جو غیرت و حیاء الله کے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رکن اعلیٰ ہے اور جو حیاء نیک اعمال سے روک دے وہ بری ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو نماز پڑھنے سے شرم لگتی ہے یہ حیاء نہیں بے وقوفی ہے،یہاں پہلے یا دوسرے درجہ کی حیاء مراد ہے۔الله تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنا خوف اپنے حبیب کی غیرت نصیب کرے۔اعلیٰ حضرت اقدس سرہ فرماتے ہیں
دن لہو میں کھونا تجھے شب نیند بھر سونا تجھے شرمِ نبی خوفِ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
|
5071 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «الْحيَاء خير كُله» |
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلى الله عليه وسلم نے کہ حیاء بھلائی ہی لاتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حیاء ساری خیر ہے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ شرعی حیاء کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ الله کی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں میں غورکر کے شرمندہ و نادم ہو،اس شرمندگی کی بنا پر آئندہ گناہوں سے بچنے،نیکیاں کرنے کی کوشش کرے ،جو غیرت نیکیوں سے روک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع