30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب الرفق و الحیاء و حسن الخلق
نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان ۱؎
۱؎ رفق کے معنی ہیں نرمی،یہ بنا ہے رفاقت سے اس سے ہے رفیق،اپنے رفقاء کی خاطر مدارات کرنا بھی رفق ہے۔حیاء(شرم) اس دلی رکاوٹ کو کہتے ہیں جس کے ساتھ ہیبت بھی ہو،گزشتہ خطا پر ہیبت آئندہ کے لیے وحشت ہو اپنے اور غیر کے معاملہ میں انصاف کرنا اچھا خلق ہے،حضور کا خلق قرآن مجید ہے،حضور کا خلق وہ عادت کریمہ ہے جس سے خلق بھی خوش خالق بھی راضی ہے۔
اولو البروالاحسان والصروالنقی حلالھم بھاجاء القرآن مفضلا
|
5068 -[1] عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَ يُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ لِعَائِشَةَ:«عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْء إِلَّا شانه» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ نرمی فرمانے والا ہے نرمی کو پسند کرتا ہے ۱؎ اور نرمی پر وہ عطا فرماتا ہے جو سختی پر عطا نہیں کرتا ۲؎ اور وہ جو اس کے ماسواء پر نہیں دیتا(مسلم)اور ان کی ایک روایت ہے کہ حضور نے حضرت عائشہ سے فرمایا تم نرمی اختیارکرو اور سختی اور بدگمانی سے بچو۳؎ کسی چیزمیں نرمی نہیں ہوتی مگر اسے اچھا کردیتی ہے اورکسی چیز سے یہ نہیں نکالی جاتی مگر اسے عیب ناک کردیتی ہے ۴؎ |
۱؎ الله تعالیٰ رفیق یعنی کریم و رحیم ہے کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم نہیں دیتا گناہ بخشتا ہے،وہ چاہتا ہے کہ میرے بندے بھی اپنے ماتحتوں اپنے ساتھیوں پر رحیم وکریم ہوں۔خیال رہے کہ الله تعالٰی کو عام محاورہ میں رفیق کہنا جائز نہیں یہ لفظ اسماء الہیہ سے نہیں ہے،یہاں لغوی معنی سے استعمال ہوا۔
۲؎ یعنی دنیاوآخرت کے نرمی سے وہ کام بن جاتے ہیں جو سختی سے نہیں بنتے،اکثر سختی سے دوست دشمن بن جاتے ہیں بنتے ہوئے کام بگڑ جاتے ہیں،نرمی سے دشمن دوست ہوجاتے ہیں اور بگڑتے ہوئے کام بن جاتے ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا
یا طالب الرزق الھینی بقوۃ ھیہات انت بباطل مشغوف
اکل العقاب بقوۃ جیف القلا درعی الذباب الشھد وھو ضعیف
یعنی سختی سے روزی نہ کماؤ نرمی سے کماؤ،عقاب سختی کی وجہ سے مردار ہی کھاتا ہے،شہد کی مکھی نرمی کی وجہ سے پھول چوستی ہے۔(مرقات)
۳؎ بدگوئی نتیجہ ہے سختی کا اولًا دل میں سختی آتی ہے،پھر بدگوئی،زبان درازی،پھر ہاتھا پائی یعنی مار پیٹ،پھر قتل و خون خدا محفوظ رکھے،شیطان پر سخت رہو بھائی مسلمان پر نرم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع