30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ بعض صوفیاء فرماتے ہیں جانوروں بلکہ نباتات و جمادات میں بھی عقل ہے کیونکہ یہ تمام مخلوق الله تعالیٰ کو پہچانتی ہے اس کی تسبیح کرتی ہے"وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"اور معرفت الٰہی تو عقل سے ہوتی ہے یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے،منطقیوں کا کہنا کہ عقل صرف انسان میں ہے غلط ہے۔عقل کا وہ درجہ جس سے ثواب وعذاب ہو وہ صرف بعض انسانوں میں ہے،بے ہوش،دیوانے،ناسمجھ بچوں میں نہیں اگرچہ وہ مؤمن ہیں بلکہ بعض جانوروں کنکر پتھروں سے زیادہ نادان ہیں،دیکھو جانوروں لکڑیوں چاند سورج تاروں نے حضور انور کو پہچانا مگر نہ پہچانا ابوجہل وغیرہ کفار نے اس لیے قرآن کریم نے فرمایا: "اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنْعٰمِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ"۔
۷؎ یعنی عقل کی بنا پر احکام شرعیہ کی تکلیف ہے اور تیری ہی بنا پر آخرت میں لوگوں کو آخرت کا ثواب و عذاب ہے۔اس عقل سے مراد عقل انسانی ہیں،معرفت الٰہی کے لیے عقل کا اور درجہ درکار ہے ثواب و عذاب کے لیے دوسرا درجہ۔
۸؎ چنانچہ تقی الدین یعنی ابن تیمیہ وغیرہ نے اسے ضعیف بلکہ موضوع بتایا یوں ہی ابوجعفر عقیلی ابو حاتم لیثی،ابو الحسن دار قطنی ابن جوزی نے اسے صحیح نہیں مانا۔(مرقات)
|
5065 -[13] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ» . حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا: «وَمَا يُجْزَى يَوْم الْقِيَامَة إِلا بقدرِ عقله» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایک شخص نماز روزے زکوۃ حج وغیرہ والوں میں سے ہوتا ہے حتی کہ حضور نے نیکی کے سارے اقسام بیان فرمائے ۱؎ مگر قیامت میں اپنی عقل کے مطابق ہی بدلہ دیا جاوے گا ۲؎ |
۱؎ یعنی جہاد،تبلیغ،لیثی،تعمیرمساجد وغیرہ تمام نیکیوں کا نام لیا کہ بعض لوگ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر ثواب کم پاتے ہیں۔
۲؎ چنانچہ بے وقوفوں کو ان نیکیوں کا ثواب کم ملتا ہے عقل مندوں کو زیادہ،جہاں مسجد کی ضرورت نہ ہو وہاں دس بیس مسجدیں بنوا دینے کا ثواب کم بلکہ بالکل ہی نہ ملے گا اور اگر وہاں پانی کی کمی ہو وہاں ایک کنواں کھدوا دینے کا ثواب ان مسجدوں سے زیادہ ہوگا۔
لطیفہ: پٹنہ کے ایک بزرگ ہر پانچ قدم پر دو رکعتیں پڑھتے ہوئے حج کو پیدل جارہے تھے دس سال میں وہ گجرات پہنچے ہم نے کہا کہ اگر وہ ہوائی جہاز سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتے اور اتنے روز وہاں رہ کر نوافل پڑھتے تو فی رکعت ایک لاکھ کا ثواب پاتے۔
|
5066 -[14] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ وَلَا ورع كالكفِّ ولاحسب كحسن الْخلق» |
روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ۱؎ اور بچنے جیسا کوئی تقوی نہیں۲؎ اور اچھے اخلاق جیسا کوئی نسب نہیں۳؎ |
۱؎ عقل دو قسم کی ہے: عقل مطبوع اور عقل مسموع۔تدبیر سے مراد عقل مسموع ہے کہ اس کے بغیر عقل مطبوع بے کار ہے، ہاں عقل مسموع کبھی عقل مطبوع کے بغیر مفید ہوجاتی ہے۔عقل مطبوع وہ ہے جو فطری طور پر یا تجربہ یا عقل کے ذریعہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع