دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

5062 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأبي الهيثمِ بن التَّيِّهان: «هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟» فَقَالَ: لَا. قَالَ: فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اخْتَرْ مِنْهُمَا» . فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ.خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ابوالہیثم ابن تیہان سے فرمایا ۱؎ کہ کیا تمہارے پاس خدمت گارہے انہوں نے کہا نہیں تو فرمایا کہ جب ہمارے پاس قیدی آویں تو آنا ۲؎  چنانچہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس دو شخص لائے گئے تو ان کی خدمت میں ابوالہیثم آئے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک چن لو عرض کیا یا نبی الله  آپ ہی چن دیں۳؎  فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس سے مشورہ لیا جاوے وہ امین ہے ۴؎  تم اسے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۵؎  اور اس کے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو ۶؎(ترمذی)

۱؎ یہ واقعہ مشکوۃ شریف باب ضیافت میں گزر چکا ہے۔یہ ابوالہیثم وہ ہی خوش نصیب صحابی ہیں جن کے باغ میں ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی الله عنہم بھوک کی حالت میں مہمان ہوئے تھے اور انہوں نے حضور کی شاندار مہمانی کی وہاں ہی آپ کے حالات بیان ہوچکے۔

۲؎  وہاں ادھار نہیں ہوتا کوئی معمولی نذر عقیدت پیش کرے وہاں سے مالا مال کردیا جاتا ہے،کھانا کھا کر یہ ارشاد فرمایا کہ ہم تم کو غلام عطا کریں گے۔

۳؎  یعنی آپ کا چناؤ میرے چناؤ سے بہتر ہوگا کہ حضور مجھ پر مجھ سے زیادہ مہربان ہیں۔حضور مصطفی مختار ہیں،حضور کے اختیار پر دار و مدار ہے۔(مرقات)جو حضور کے چناؤ میں آگیا وہ رب تعالیٰ کے چناؤ میں آگیا۔

۴؎  قیامت تک کے لیے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا کہ اگر تم سے کوئی شخص مشورہ کرے تو تم پر لازم ہے کہ خلاف مصلحت اسے مشورہ نہ دو اگر ایسا کیا تو تم خائن ہوگے،مشورہ لینے والا اگرچہ دشمن ہو مگر مشورہ اچھا دو۔

۵؎  اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ نمازی مسلمان کو اپنے کام کاج کے لیے ملازم رکھو،بیوی اولاد،خدام،دوست احباب،رشتہ دار وہ ہی اچھے جو نمازی ہوں،نمازی آدمی ان شاءالله متقی پرہیزگار خیرخواہ ہوتا ہے جو خدا سے نہ ڈرے وہ بندے سے اور اس کا حق مارنے سے کیا ڈرے گا۔

۶؎  اس فرمان عالی کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ اس خادم کو ہمیشہ اچھی باتوں کی نصیحت وصیت کرتے رہنا اس کی اصلاح بھی تمہارے ذمہ ہے۔دوسرے یہ کہ تم اس کے متعلق میری وصیت قبول کرو کہ اس سے بھلائی کے ساتھ پیش آنا وہ حضرت یہ دوسرے معنی میں سمجھے اور انہوں نے گھر لے جا کر اسے آزاد کردیا۔

5063 -[11]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " المجالسُ بالأمانةِ إِلَّا ثلاثَةَ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ واقتطاع مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ".رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ» فِي «بَاب المباشرةِ» فِي «الْفَصْل الأول»

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجلسیں امانت والی ہوتی ہیں ۱؎ سواء تین مجلسوں کے حرام خون بہانے کی یا حرام شرم گاہ کی یا ناحق مال مارنے کی مجلسیں ۲؎ (ابوداؤد)اور ابو سعید کی حدیث ان اعظم الامانہ،الخ مباشرۃ کے باب کی پہلی فصل میں ذکر کردی گئی ۳؎

۱؎ یعنی جب کوئی خاص مجلس یا میٹنگ کی جاوے وہاں جو کچھ طے ہو اسے مشتہر نہ کرو بلکہ صیغہ راز میں رکھو کہ وہاں جو کچھ پاس ہوا وہ امانت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن