دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

بری یہاں اچھی میانہ روی مراد ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِکَ"اور فرماتاہے:"اِذَاۤ اَنۡفَقُوۡا لَمْ یُسْرِفُوۡا وَلَمْ یَقْتُرُوۡا وَکَانَ بَیۡنَ ذٰلِکَ قَوَامًا"۔ بعض عارفین فرماتے ہیں کہ علم اچھا ہے جب کہ درمیانی ہوکہ عمل سے نہ روکے،عمل اچھا ہے جب کہ درمیانی ہو کہ علم سے نہ روکے۔(مرقات)

۲؎  یعنی حضرات انبیاء کرام بہت سی صفات سے موصوف ہوتے ہیں ان سے درمیانہ روی بھی ہے جسے یہ نصیب ہوئی اسے نبوت کی خصلت نصیب ہوئی۔چوبیسواں حصہ فرمانا یہ علوم نبوت سے ہے رب تعالیٰ جانے اس سے کیا مراد ہے۔(مرقات) اس کے متعلق کچھ عرض کیا گیا ہے تعبیر خواب کے بیان میں۔

5060 -[8]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا طریقہ اور اچھی عادت ۱؎  اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎  یہاں ھدی سے مراد اندرونی حالات ہیں اور سمت سے مراد ظاہری حالات ہیں جیسے ایمان باطنی عقیدوں کا نام ہے اور اسلام ظاہر ی ارکان کا نام۔(مرقات)

۲؎  میانہ روی ہر چیز میں اچھی ہے کمانے میں،خرچ کرنے میں،کھانے پہننے میں حتی کہ نوافل عبادات میں اور زندگی کے ہر شعبہ میں کہ نہ تو بہت کمی کرے نہ بہت زیادتی،یہ عمل بھی حضرات انبیاء کرام خصوصًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔اسے پچیسواں حصہ فرمانا اسرار الہیہ میں سے ہے جو مطلب ہے وہ حق ہے۔میانہ چال چلنے والا ہمیشہ کام کرسکتا ہے اور نیکی وہ ہی اچھی جو ہمیشہ کی جاوے گی اگرچہ بہت زیادہ نہ ہو۔

5061 -[9]

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت جابر ابن عبدالله سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جب آدمی کوئی بات کرے پھر ادھر ادھر دیکھے تو وہ بات امانت ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد)

۱؎  یعنی اگر کوئی شخص تم سے اکیلے میں کوئی بات کہے اور بات کے دوران یا بات کے درمیان میں ادھر ادھر دیکھے کہ کوئی سن نہ لے تو وہ اگرچہ منہ سے نہ کہے کہ یہ کسی سے نہ کہنا مگر اس کی یہ حرکت بتاتی ہے کہ وہ راز کی ہے لہذا اسے امانت سمجھو اس کا راز ظاہر نہ کرو کسی سے یہ بات نہ کہو۔سبحان الله! کیسی پاکیزہ تعلیم ہے۔

5062 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لأبي الهيثمِ بن التَّيِّهان: «هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟» فَقَالَ: لَا. قَالَ: فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اخْتَرْ مِنْهُمَا» . فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ.خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ابوالہیثم ابن تیہان سے فرمایا ۱؎ کہ کیا تمہارے پاس خدمت گارہے انہوں نے کہا نہیں تو فرمایا کہ جب ہمارے پاس قیدی آویں تو آنا ۲؎  چنانچہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس دو شخص لائے گئے تو ان کی خدمت میں ابوالہیثم آئے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ان میں سے ایک چن لو عرض کیا یا نبی الله  آپ ہی چن دیں۳؎  فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جس سے مشورہ لیا جاوے وہ امین ہے ۴؎  تم اسے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۵؎  اور اس کے متعلق بھلائی کی وصیت قبول کرو ۶؎(ترمذی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن