30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی جگہ ہاتھ رکھنا عیادت کے لیے سنت ہے۔فواد دل کو بھی کہتے ہیں دل کے پردے کو بھی اور سینہ کو بھی جو دل کا مقام ہے،یہاں غالبًا بمعنی سینہ ہے۔
دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پاچاند سا سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
مبارک ہے وہ بیماری جس میں ایسے تیماردار امت کے غم خوار چل کر مریض کے پاس آویں۔
سر بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
اب بھی بعض بزرگوں نے اپنی بیماری میں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی جاگتے ہوئے زیارت کی ہے کہ حضور نے ان کی تیمارداری و عیادت فرمائی۔سبحان الله!
۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ کافر طبیب سے علاج کرانا جائز ہے کیونکہ حارث ابن کلدہ مکہ معظمہ میں مشہور طبیب تھا مگر کافر تھا اس کا اسلام ثابت نہیں۔(اشعۃ اللمعات)مگر حیرت یہ ہے کہ مرقات نے فرمایا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کے سال ہوا اور اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حارث ابن کلدہ شروع اسلام میں فوت ہوا کافر مرا مسلمان نہ ہوا۔اس سے معلوم ہو اکہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماہر طبیب سے علاج کرانا چاہیے جو فن طبابت میں مہارت رکھتا ہو ورنہ نیم حکیم خطرہ جان۔اور تجربہ بھی رکھتا ہو یہ کام کرتا بھی ہو۔یتطیب سے بہت مسائل حل ہوگئے۔
۵؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ احادیث شریفہ کی تجویز فرمائی ہوئی دوائیں کسی طبیب کی رائے سے استعمال کرنا چاہئیں جو ہمارے مزاج،موسم،دوا کی تاثیر،ہمارے مرض کی کیفیت سے خبردار ہو۔ دوسرے یہ کہ بعض دوائیں طبیب ہی کے ہاتھ سے استعمال کرنی چاہیے۔آج ڈاکٹر ہی ٹیکہ تجویز کرتے ہیں وہ ہی لگاتے ہیں،دیکھو حضور انور نے دوا تجویز فرمادی مگر استعمال کے لیے طبیب کے پاس بھیجا۔تیسرے یہ کہ عجوہ کھجور اور اس کی گٹھلی میں بہت فوائد ہیں۔ان سے دل کی دھڑکن،دل کی کمزوری بھی دور ہوتی ہے اور چند فوائد پہلے بیان ہوچکے کہ یہ زہر اور سحر کے لیے مفید ہے۔لیلدك بنا ہے لدٌ سے جس کے معنی ہیں بیمار کے منہ میں قطرہ ٹپکانا یا اس کے تالو میں کوئی چیز لیپ دینا جس سے وہ بہ آسانی اسے نگل لے۔
|
4225 -[67] وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ: وَيَقُولُ: «يَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا» . وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم تربوز کھجور کے ساتھ کھاتے تھے۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے یہ زیادہ فرمایا کہ فرماتے تھے اس کی گرمی اس کی ٹھنڈک سے ٹوٹ جائے گی اور اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی سے،ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ |
۱؎ جس سے تربوز تو کھجور سے میٹھا ہوجاتا اور کھجور تربوز سے تر ہوجاتی تھی،نیز تربوز ٹھنڈا ہے کھجور گرم، دونوں مل کر معتدل ہوجاتے تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بطیخ اصغر خربوزہ کو کہتے ہیں اور بطیخ اخضر تربوز کو،یہاں بطیخ اخضر یعنی تربوز مراد ہےلیکن تربوز ہی ٹھنڈا ہوتا ہے خربوزہ تو خود گرم ہے۔بعض شارحین نے اس کے معنی خربوزہ کئے مگر قوی وہ ہی ہے۔
|
4226 -[68] وَعَن أَنَسٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ وَيُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس پرانے چھوہارے لائے گئے تو آپ انہیں کریدتے تھے اور اس سے کیڑے نکالتے تھے ۱؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع