30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ کہ جب میں کسی کام میں حیران ہوجاؤں تو کیا کروں جیساکہ جواب سے ظاہر ہے۔حضرات صحابہ ہر دینی و دنیاوی کام میں حضور انور سے مشورہ لیا کرتے تھے۔
۲؎ تدبیر بنا ہے دبر سے بمعنی پیچھے یا انجام،تدبیر کے معنی ہیں انجام سوچنا یعنی جو کام کرنا ہو پہلے اس کا انجام سوچو پھر کام شروع کرو۔
۳؎ یعنی اگر تم کو کسی کام کے انجام میں دینی یا دنیاوی خرابی نظر آئے تو کام شروع ہی نہ کرو اور اگر شروع کرچکے ہو تو باز رہ جاؤ اسے پورا نہ کرو۔
|
5058 -[6] وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْء إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حصرت مصعب ابن سعد سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی اعمش ۲؎ کہتے ہیں کہ میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ۳؎ فرمایا اطمینان سے کرنا ہر چیز میں اچھا ہے سواء آخرت کے کام کے ۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ یہ مصعب خود تابعی ہیں مگر ان کے والد حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ صحابی اور عشرہ مبشرہ سے ہیں،حضرت مصعب نے اپنے والد سعد سے اور حضرت علی،ابن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین سے ملاقات کی ہے،بڑے مقدس بزرگ ہیں، ۱۰۳ھ ایک سو تین میں وفات پائی۔
۲؎ اعمش بھی مشہور جلیل القدر تابعی ہیں،آپ کا نام سلیمان ابن مہران ہے،اسدی ہیں کاہلی ہیں، ۶۰ ہجری میں مقام ری میں پیدا ہوئے،کوفہ لائے گئے، ۱۴۸ ایک سو اڑتالیس میں وفات ہوئی۔
۳؎ یعنی غالب یہ ہے کہ یہ حدیث مرفوع ہے ممکن ہے کہ حدیث موقوف ہو کہ حضرت سعد ابن وقاص کا اپنا قول ہو۔
۴؎ یعنی دنیاوی کام میں دیر لگانا اچھا ہے کہ ممکن ہے وہ کام خراب ہو اور دیر لگانے میں اس کی خرابی معلوم ہوجائے اور ہم اس سے باز رہیں مگر آخرت کا کام تو لا محالہ اچھا ہی ہے اسے موقعہ ملتے ہی کرلو کہ دیر لگانے میں شاید موقعہ جاتا رہے۔بہت دیکھا گیا کہ بعض حاجیوں کو موقعہ ملا نہ کیا پھر نہ کرسکے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"فَاسْتَبِقُوا الْخَیۡرٰتِ"بھلائیوں میں جلدی کرو شیطان کار خیر میں دیر لگواکر آخر اس سے روک دیتا ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ"۔کار خیر میں خرچ کرنے پر فقیری کا اندیشہ دلاتا ہے اور حرام کاموں میں خرچ کرنے پر نام کی امید دلاتا ہے کہ تمہارا نام ہوگا۔
|
5059 -[7] وَعَن عبد الله بن جرجس أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«السَّمْتُ الْحَسَنُ وَالتُّؤَدَةُ وَالِاقْتِصَادُ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعٍ وَ عشْرين جُزْءا من النُّبُوَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سرجس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے اخلاق اور اطمینان اور میانہ روی ۱؎ نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے ۲؎(ترمذی) |
۱؎ سمت سین کے فتحہ میم کے سکون سے بمعنی دائمی عادت۔اقتصاد وہ کام جو افراط و تفریط کے درمیان ہو جیسے جود یعنی سخاوت درمیان ہے فضول خرچی اور بخل کے یا شجاعت درمیانی حالت ہے ظلم اور بزدلی کے۔میانہ روی بعض اچھی ہے بعض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع