دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

5055 -[3]

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَنَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاس الرَّاوِي من قبل حفظه

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ساعدی سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اطمینان اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ۲؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے اور بعض محدثین نے عبدالمھیمن ابن عباس کے متعلق اس کے حافظہ کے بارے میں کچھ کلام کیا ہے ۳؎

۱؎ حضرت سہل بھی صحابی ہیں،آپ کے والد سعد بھی صحابی ہیں،مدینہ منورہ میں سب سے آخری صحابی آپ ہی فوت ہوئے۔

۲؎  یعنی دنیاوی یا دینی کاموں کو اطمینان سے کرنا اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہے اور ان میں جلد بازی سے کام لینا شیطانی وسوسہ ہے۔اس ترجمہ اور شرح سے معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں"سَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ"اور نہ اس آیت کے خلاف ہے"یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ"کہ وہاں سرعت یعنی دینی کام میں دیر نہ لگانے جلد ادا کرلینے کی تعریف ہے اور یہاں خود کام میں جلد بازی کرنا کہ کام بگڑ جائے اس سے ممانعت ہے،بعض لوگ دو منٹ میں چار رکعتیں پڑھ لیتے ہیں یہ ہے عجلت نفس،عبادت میں جلدی بری ہے۔

۳؎  یعنی مہیمن ابن عباس ہیں تو متقی پرہیزگار مؤمن کامل مگر ان کا حافظہ کمزور تھا۔

5056 -[4]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حَلِيمَ إِلَّا ذُو تَجْرُبَةٍ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہیں ہے بردبار مگر لغزش والا ۱؎  اور نہیں ہے حکمت والا مگر تجربہ کار ۲؎(احمد،ترمذی)اور کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

۱؎ یعنی عمومًا انسان لغزشیں کرکے ٹھوکریں کھا کر بردبار و حلیم بنتا ہے کہ لوگ اس کی لغزشوں پر اسے اس کی غلطیوں پر مطلع کرتے ہیں،اسے شرمندہ کرتے ہیں تب کہیں جاکر وہ حلیم بنتا ہے،ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو دوسروں کی لغزش سے سبق لے لیں۔

۲؎  یعنی عمومًا لوگ تجربہ کرکے حکیم بنتے ہیں۔یہاں عام لوگوں کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے علیم و حکیم ہے،یوں ہی حضرات انبیاء و اولیاء اول سے ہی علیم و حکیم ہوتے ہیں لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

5057 -[5]

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ:«خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ».رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»

روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمایئے ۱؎ تو فرمایا کام تدبیر سے اختیارکرو ۲؎  پھر اگر اس کے انجام میں بھلائی دیکھو تو کر گزرو اور اگر گمراہمی کا خوف کرو تو باز رہو ۳؎(شرح سنہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن