دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

باب الحذر و التأنی فی الامور

احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ حذر ح  اور ذال کے فتح سے بمعنی پرہیز کرنا احتیاط برتنا اور حذر ذال کے کسرہ سے بمعنی محتاط آدمی،احتیاط کرنے والا شخص۔ حذر کے معنی ہیں وہ نقصان دہ شخصوں سے پرہیز کرنا۔تأنی کے معنی ہیں اطمینان سے کام کرنا،اس کا مقابل ہے تعجیل یعنی جلد بازی۔خیال رہے کہ ہر کام میں تاخیر و احتیاط سے کام کرے مگر اخروی کاموں میں جلدی کرنا بہتر کہ موت کی خبر نہیں۔

5053 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يلْدغ الْمُؤمن من جُحر مرَّتَيْنِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں کاٹا جاتا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ اس حدیث کا شان نزول یہ ہے کہ ایک کافر شاعر جس کا نام ابوعزہ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مخالفت میں سخت توہین آمیز اشعار کہا کرتا تھا،جنگ بدر میں گرفتار ہوگیا اس نے حضور انور سے گزشتہ کی معافی مانگی آئندہ اس حرکت سے باز رہنے کا عہد کیا حضور انور نے اسے چھوڑ دیا،وہ چھوڑکر پھر اس حرکت میں مشغول ہوگیا،پھر جنگ احد میں گرفتار ہوا پھر اس نے معذرت کی اور صحابہ کرام نے اس کی رہائی کی سفارش کی تب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ مؤمن ایک سوراخ سے دوبار نہیں کاٹا جاتا اور اسے رہائی نہ بخشی یعنی جس سوراخ سے ایک بار بچھو نے کاٹ لیا ہو اس سوراخ میں دوبارہ انگلی مت ڈالو، جس شخص سے ایک بار دھوکا کھالیا ہو دوبارہ اس کے دھوکے میں نہ آؤ اس شاعر کو قتل کردیا گیا۔(مرقات و اشعہ)

5054 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ:"إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا الله: الْحلم والأناة ".رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے سردار سے فرمایا ۱؎ کہ تجھ میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ پسند فرماتا ہے بردباری اور وقار ۲؎(مسلم)

۱؎ عبدالقیس ایک قبیلہ کانام ہے،اشج بمعنی رئیس و سردار اس سردار کا نام منذر ابن عائذ تھا،یہ لوگ اپنی قوم کے نمائندہ بن کر اسلام لانے آئے تھے،دوسرے لوگ تو آتے ہی بھاگے ہوئے،حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوئے مگر اس سردار نے اولًا غسل کیا،پھر عمدہ لباس تبدیل کیا،پھر نہایت وقار و سکون سے مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوا،دونفل پڑھے،پھر دعا مانگی،پھر حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوا حضور انور کو اس کی یہ ادا بہت پسند آئی تب یہ فرمایا۔(اشعہ)

۲؎  جب حضور انور نے اسے یہ بشارت دی تو وہ بولا کہ یارسول اللہ میری صفتیں کسبی ہیں یا رب تعالیٰ کی عطا کی ہوئی،فرمایا کہ رب تعالیٰ کی عطا تب اس نے سجدۂ شکر کیا،بولا کہ اگر میری کسبی ہوتیں تو قابل زوال ہوتیں رب کی عطا زائل نہیں ہوتی خدا کا شکر ہے جس نے مجھے وہ خصلتیں بخشیں ہیں جس سے وہ اور اس کے رسول راضی ہیں۔(مرقات و اشعہ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن