30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیادہ ہیں۔خیال رہے کہ فقر مع صبر الله کی رحمت ہے جس کے متعلق ارشاد ہوا الفقر فخری اور فقر مع کفر(ناشکری)الله کا عذاب ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں،فقیر صابرکو غنی شاکر سے افضل مانا گیا ہے۔
۲؎ یعنی قریب ہے کہ حسد تقدیر کو بدل دے کیونکہ حاسد خود محسود کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے،اس کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اس کا کچھ نہیں بگڑتا حاسد کی نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں،چونکہ کبھی حسد بھی کفر تک پہنچا دیتا ہے اس لیے حسد کو فقیر کے ساتھ بیان فرمایا شیطان حسد کا کافر ہے۔
|
5052 -[26] وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ فَلَمْ يَعْذِرْهُ أَوْ لَمْ يَقْبَلْ عُذْرَهُ كَانَ عَلَيْهِ مثلُ خَطِيئَة صَاحب المكس» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي«شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ: الْمَكَّاسُ: الْعَشَّارُ |
روایت ہے حضرت جابر سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جو اپنے بھائی سے معذرت کرے ۱؎ وہ اس کی معذرت نہ مانے ۲؎ یا اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس والے کا سا گناہ ہوگا۳؎ ان دونوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا اور فرمایا مکاس ٹیکس لینے والا ہے۴؎ |
۱؎ یعنی جوشخص اپنے مسلمان بھائی کو ناراض کرے پھر عذر خواہی کے لیے اس کے پاس آئے اس سے معافی چاہے یا قصور کا بدلہ کرنا چاہے۔
۲؎ یعنی بغیر عذر اسے معافی نہ دے اس سے دل صاف نہ کرے۔
۳؎ جیسے ٹیکس لگانے والے اور ٹیکس وصول کرنے والے اکثر ظالم ہوتے ہیں انہیں سخت سزا ملے گی ایسے ہی اس شخص کو سخت سزا ملے گی۔
۴؎ ٹیکس مقرر کرنے والا کسی تاجر وغیرہ کا عذر نہیں قبول کرتا بہرحال اپنی مرضی کے مطابق لگادیتا ہے یہ شخص بھی عذر قبول نہیں کرتا اس لیے یہ تشبیہ بالکل درست ہے۔عشار وہ حکام ہیں جو زمین اور کسانوں کی پیداوار پر عشر(دسواں حصہ)لگائے یا وصول کرنے پر مقرر ہوں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع