30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5046 -[20] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: " لما عرجَ بِي ربِّي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمِشُونَ وجوهَهم وصدورهم فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب مجھے میرے رب نے معراج دی ۱؎ تو میں اس قوم پرگزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے کہ وہ اپنے چہرے اور سینے کھرچ رہے تھے ۲؎ تو میں نے پوچھا اے جبریل یہ کون لوگ ہیں عرض کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے ہیں اور ان کی آبرؤوں میں مشغول ہوتے ہیں۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں معراج سے مراد جسمانی بیداری کی معراج مراد ہے جو نبوت کے گیارہویں سال ستائیسویں رجب سوموار کی رات ہوئی۔منامی یعنی خواب کی معراجیں حضور کو قریبًا تیس ہوئی ہیں،نماز کی فرضیت اس جسمانی معراج میں ہوئی۔
۲؎ اس طرح کہ ان پر خارش کا عذاب مسلط کردیا گیا تھا اور ناخن تانبے کے دہاردار اور نوکیلے تھے ان سے سینہ چہرہ کھجلاتے تھے اور زخمی ہوتے تھے۔خدا کی پناہ! یہ عذاب سخت عذاب ہے یہ واقعہ بعد قیامت ہوگا جو حضور صلی الله علیہ وسلم نے آنکھوں سے دیکھا۔
۳؎ یعنی یہ لوگ مسلمانوں کی غیبت کرتے تھے ان کی آبروریزی کرتے تھے،یہ کام عورتیں زیادہ کرتی ہیں انہیں اس سے عبرت لینی چاہیے۔
|
5047 -[21] وَعَن الْمُسْتَوْرد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطعِمُه مثلَها منْ جهنَّمَ ومَن كَسا ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ لَهُ مَقَامَ سُمْعَةٍ ورياءِ يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت مستورد سے ۱؎ وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو کسی مسلمان آدمی مشغول ہو کر کچھ لقمے کھائے ۲؎ تو الله اسے اس کی مثل دوزخ میں کھلائے گا۳؎ اور جوکسی مسلمان آدمی کی وجہ سے کپڑا پہنایا جاوے تو الله اسے اس کی مثل دوزخ سے پہنائے گا۴؎ اور جوکسی شخص کی وجہ سے سنانے اور دکھانے کی جگہ میں کھڑا ہو تو الله اسے قیامت کے دن سنانے اور دکھانے کی جگہ کھڑا کرے گا ۵؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ کا نام مستورد ابن شداد ہے،کوفی ہیں،آخر میں مصر میں رہے،حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت کمسن تھے،صحابی ہیں،آپ سے بہت صحابہ نے احادیث نقل کیں۔
۲؎ اس طرح کہ دو لڑے ہوئے مسلمانوں میں سے ایک کے پاس جاوے اور اسے خوش کرنے کے لیے دوسرے کی غیبت کرے،اسے برا کہے،اسے نقصان پہنچانے کی تدبیریں بتائے تاکہ اس ذریعہ یہ شخص اسے کچھ دیدے یا کھلاوے ایسے خوشامدی لوگ آج کل بہت ہیں۔
۳؎ یہ دوزخ کی آگ کے انگارے ان لقموں کی عوض میں جس قدر یہاں لقمے کھائے اتنے ہی وہاں انگارے کھائے گا۔
۴؎ اس کا مطلب گزشتہ مضمون سے واضح ہے کہ جو کسی کو خوش کرنے کے لیے مسلمان بھائی کی غیبت کرے یا اسے ستائے اس غیبت وغیرہ کی عوض کپڑوں کا جوڑا پائے تو اسے قیامت میں اس جوڑے کی عوض آگ کا جوڑا پہنایا جائے گا۔
۵؎ اس فرمان عالی کے بہت معنی ہیں: ایک یہ کہ جو شخص کسی مشہور شریف آدمی کی پگڑی اچھالے اس کا مقابلہ کرے تاکہ اس مقابلہ سے میری شہرت ہو،دوسرے یہ کہ جوکسی شخص کو دنیا میں جھوٹے طریقہ سے اچھالے تاکہ اس کے ذریعہ مجھے عزت و روزی ملے جیسے آج کل بعض جھوٹے پیروں کے مرید اس کی جھوٹی کرامتیں بیان کرتے پھرتے ہیں تاکہ ہم کو بھی اس کے ذریعہ عزت ملے کہ ہم اس کے بالکے ہیں۔(اشعہ)تیسرے یہ کہ جو شخص دنیا میں نام و نمود چاہے نیکیاں کرے مگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع