30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حسد سے مراد ہے دلی خفیہ دشمنی،بغض سے مراد ہے علانیہ دشمنی یا حسد کسی سے جلنا اس کی نعمت کا زوال چاہنا،بغض دشمنی دل میں رکھنا۔
۳؎ اس طرح کہ دین و ایمان کو جڑ سے ختم کردیتی ہے کبھی انسان بغض و حسد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے، شیطان بھی انہیں دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے۔
|
5040 -[14] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا حسد سے بچو کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی حسدوبغض ذریعہ بن جاتا نیکیوں کی بربادی کا یعنی حاسد ایسے کام کر بیٹھتا ہے جس سے نیکیاں ضبط ہو جاویں،حاسد و بغض والے کی نیکیاں محسود کو دے دی جائیں گی یہ خالی ہاتھ رہ جاوے گا۔خیال رہے کہ کفر و ارتداد کے سواء کوئی گناہ مؤمن کی نیکیاں برباد نہیں کرتا،ہاں نیکیوں سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،رب فرماتا ہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔ (اشعہ)اس حدیث کی بناء پر معتزلہ نے کہا ہے کہ بعض گناہوں سے نیکیاں بھی مٹ جاتی ہیں مگر غلط کہا کیونکہ اس حدیث کا وہ مطلب ہے جو ہم نے عرض کیا اس حدیث کی اور بہت توجیہیں کی گئی ہیں۔(دیکھو مرقات)
|
5041 -[15] وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَسُوءَ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے ان ہی سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا آپس کے فساد سے بچو ۱؎ کیونکہ یہ مونڈ دینے والی چیز ہے ۲؎(ترمذی) |
۱؎ ذات بین کے معنی آپس والی چیز،سوء کے معنی برائی یعنی آپس والی چیز کی برائی سے بچو نہ تو تم خود آپس میں رنجش رکھو نہ دو شخصوں میں رنجش ڈالو غیبت وغیرہ کرکے کہ یہ بدترین جرم ہے بلکہ بہت سے جرموں کی جڑ ہے۔
۲؎ اس کی شرح ابھی ہوچکی کہ یا تو اس مجرم کی نیکیاں برباد ہوجانے کا سبب ہے یا جس مظلوم کے ساتھ یہ برتاوا کیا گیا اس کے گناہ معاف ہوجانے کا سبب،اس کے نامہ اعمال کو گناہوں سے ایسا صاف کردیتی ہے جیسے استرہ سر کو۔
|
5042 -[16] وَعَن أبي صرمة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت ابو صرمہ سے ۱؎ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو نقصان پہنچائے گا اسے الله نقصان دے گا ۲؎ اور جوکسی سے مخالفت کرے گا الله اس سے مخالفت کرے گا ۳؎(ا بن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ آپ کا نام مالک ابن قیس مازنی ہے،بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے،آپ کی کنیت ابو صرمہ ہے،آپ زمانہ جاہلیت میں بھی ملتِ ابراہیمی پر عبادت الٰہی کرتے تھے،بہت بڑی عمر میں اسلام لائے،آپ سے حضرت ابن عباس نے روایات لیں۔ (مرقات و اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع