30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5038 -[12] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ من درجةِ الصِّيامِ والصدقةِ وَالصَّلَاة؟» قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: «إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابو الدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں روزے صدقہ اور نماز سے بڑھ کر درجہ والی چیز نہ بتاؤں ۱؎ فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا آپس کے معاملہ کی درستی ۲؎ اور آپس کے معاملہ کا بگاڑ وہ ہی مونڈ دینے والی ہے۳؎(ابوداؤد اور ترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ |
۱؎ یعنی وہ چیز درجہ میں یا ثواب میں ان مذکورہ عبادات سے بڑھ کر ہو۔خیال رہے یہاں عطف اعلیٰ کا ادنی پر ہے اس لیے نماز کا ذکر بعد میں فرمایا ورنہ نماز روزہ صدقہ سے افضل ہے یا واؤ جمع کے لیے ہے یعنی وہ کام ان تینوں کے مجموعہ سے افضل ہے،یہاں نفلی روزے نفلی صدقہ نفلی نماز مراد ہے نہ کہ فرضی۔(مرقات )
۲؎ ذات کے معنی والی ذو کا مؤنث،بین بمعنی درمیانی(یعنی آپس)ذات بین کے معنی ہوئے آپس والی چیز معاملات یا محبت والے تعلقات،بعض شارحین نے فرمایا کہ ذات بین سے مراد ہے آپس کی دشمنی و عداوت اور ترک تعلقات،اصلاح سے مراد ہے ان کو دورکردینا،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ"وہ آیت اس حدیث کی تائید کرتی ہے۔
۳؎ یعنی مسلمانوں کے آپس کے تعلقات خراب کردینا،ان میں دشمنی ڈال دینا بھلائیوں ثوابوں کو فنا کردینے والی چیز ہے اس کی نحوست سے انسان روزہ نماز کی لذت بلکہ خود روزے نماز وغیرہ دیگر عبادات سے محروم ہوجاتا ہے۔سبحان الله! کیسی پیاری تشبیہ ہے جیسے استرہ سر کے بالوں کو جڑ سے ختم کردیتا ہے ایسے ہی یہ حرکت نیکیوں کو جڑ سے اڑا دیتی ہے۔
مولانا فرماتے ہیں۔شعر
تاتوانی پامن اندر فراق ابغض الاشیاء عندی الطلاق
یہ حدیث مختلف الفاظ مختلف اسنادوں سے مروی ہے۔چنانچہ طبرانی اور بزاز نے روایت کی کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ لوگوں میں صلح کراؤ،اس صلح کرانے میں جو کچھ تم بولو گے اس کے ہر حرف کے عوض غلام آزاد کرنے کا ثواب پاؤ گے اور الله تعالیٰ تمہاری اصلاح فرمائے گا،تمہارے سارے گناہ بخش دے گا۔(مرقات)
|
5039 -[13] وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ ولكنْ تحلق الدّين» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی ۱؎ حسد اور بغض ۲؎ یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۳؎ (احمد،ترمذی) |
۱؎ دب بنا ہے دب سے بمعنی آہستہ آہستہ چلنا اس سے ہے دبیب اس سے ہے دابۃ بمعنی جانور،سرایت کر جانے کو دب اس لیے کہتے ہیں کہ وہ محسوس نہیں ہوتی اوردل میں اتر جاتی ہے یہاں بمعنی سرایت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع