دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

5035 -[9]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمِنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلم کو یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے تو جو تین دن سے زیادہ چھوڑے ۱؎  پھر مرجاوے تو آگ میں داخل ہوگا ۲؎(احمد،ابو داؤد)

۱؎ زیادہ سے مراد یا تو ایک ساعت کی زیادتی ہے یا چوتھے دن کی زیادتی یعنی اگر چار دن چھوڑے رہا یا تین سے ایک ساعت زیادہ چھوڑا۔(مرقات)

۲؎ یعنی ہجران کی سزا کا مستحق ہوگا،مسلمان بھائی سے عداوت دنیاوی آگ،حسد،بغض کینہ یہ سب مختلف قسم کی آگ ہیں اور آخرت میں اس کی سزا وہ بھی آگ ہی ہے رب چاہے تو بخش دے چاہے تو سزا دے دے۔

5036 -[10]

وَعَن أبي خرَاش السُّلَميَّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كسفك دَمه» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو خراش سلمی سے ۱؎  انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے بھائی کو ایک سال چھوڑے رہے وہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ ان کا نام حدرد ابن حدرد سلمی ہے،قبیلہ بنی سلیم سے ہیں،آپ صحابی ہیں،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،کنیت ابو خراش ہے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے،صحابیت میں بڑی فضیلت ہے حالات معلوم ہوں یا نہ ہوں۔

۲؎  یعنی جیسے مسلمان کا ناحق قتل بڑا گناہ ہے ایسے ہی اسے ناحق سال بھر تک چھوڑے رہنا بڑا گناہ۔خون بہانے میں جسم کو تکلیف پہنچتی ہے اتنی دراز مدت تک چھوڑے رہنے سے اس کے دل کو ایذاء پہنچتی ہے۔سال کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سال دراز مدت ہے جس میں اکثر مسافر اپنے گھر لوٹ آتے ہیں،اس میں ہر موسم ہوتا ہے،سردی گرمی بہار خزاں جن میں مختلف لوگوں کے مزاج پر اثر ہوتا ہے ایسا سخت دل ہے کہ کسی موسم میں اس کا دل نرم اور غصہ ٹھنڈا نہ ہوا،جو دل سال بھر تک صاف نہ ہو آئندہ اس کے صاف ہونے کی امید نہیں۔

5037 -[11]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثلاثُ فَلْيلقَهُ فليسلم عَلَيْهِ فَإِن ردَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ وَخَرَجَ المُسلِّمُ من الْهِجْرَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کسی مسلمان کو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے ۱؎  تو اگر اس پر تین دن گزر جاویں تو یہ اس سے ملے اسے سلام کرے پھر اگر وہ اسے سلام کا جواب دے دے تو دونوں ثواب میں شریک ہوگئے ۲؎ اور اگر جواب نہ دے تو وہ گناہ کے ساتھ لوٹا سلام کرنے والا چھوڑنے سے نکل گیا ۳؎(ابوداؤد)

۱؎ اس کی شرح اور وجہ پہلے عرض کی جاچکی۔

۲؎  اصل ثواب میں برابر ہوگئے اگرچہ سلام کی ابتداء کرنے والا اور دوسرے سے ملنے کے لیے جانے والا بڑے ثواب کا مستحق ہے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں صلح کی ابتداء کرنے والے کا درجہ بڑا فرمایا گیا۔

۳؎  یعنی تین دن تک جو جدائی رہی اس کے گنہگار دونوں تھے اب اس عمل سے یہ صلح میں پیش قدمی کرنے والا تو گناہ سے نکل گیا مگر دوسرا منہ موڑنے والا گناہ میں گرفتار رہا بلکہ یہ دوسرا گناہ اس پر ہوا صلح سے منہ پھیرنا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن