دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱؎ چونکہ جنت کے طبقے بہت ہیں ہر طبقہ کا علیٰحدہ  دروازہ ہے اس لیے ابواب جمع فرمایا گیا یا خود جنت ہی کے بہت دروازے ہیں جیساکہ دوسری روایت میں ہے۔جنت کے بعض دروازے وہ ہیں جو سال بھر تک ہر دو شنبہ و جمعہ کو کھلتے ہیں،بعض دروازے وہ ہیں جو ماہ رمضان میں کھلتے ہیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہر رمضان میں دو دروازے کھلتے ہیں یہ دروازے کھلنا عام رحمت و مغفرت کے لیے ہیں۔

۲؎ لایشرك بالله سے مراد ہے مؤمن ہونا ورنہ جو مشرک نہ ہو مگر ہو کافر وہ بھی نہ بخشا جاوے گا،عداوت سے مراد دنیاوی دشمنی ہے۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ ان دونوں شخصوں کی مغفرت صلح پر موقو ف ہے جب کہ ان میں سے کسی نے صلح کی کوشش نہ کی لیکن اگر ایک نے تو صلح کی کوشش کی مگر دوسرا راضی نہ ہوا ہو تو اس دوسرے کو نہ بخشا جاوے گا اس میں تمام وہ قیود یاد رکھو جو ابھی پہلے عرض کی جاچکی ہیں۔

۴؎  یہ حدیث بخاری نے اپنی کتاب ادب المفرد میں اور ابوداؤد ترمذی نے بھی ان ہی سے روایت فرمائی۔(مرقات)

5030 -[4]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا عبدا بَينه بَين أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دوبار پیش کیے جاتے ہیں ۱؎ پیر کے دن اور جمعرات کے دن تو ہر بندہ مؤمن کی بخشش کردی جاتی ہے سواء اس بندے کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں چھوڑو حتی کہ رجوع کرلیں ۲؎(مسلم)

۱؎  ناس سے مراد مسلمان ہیں اور جمعہ سے مراد ہفتہ ہے۔مرتین فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ ایک دن میں دوبار پیشی نہیں ہوتی بلکہ ہر دن میں ایک بار یہ پیشی بارگاہِ الٰہی میں ہوتی ہے یا اس فرشتے کے سامنے جو لوگوں کے اعمال کا محافظ بنایا گیا ہے،پہلا احتمال زیادہ قوی ہے کیونکہ دوسری روایت میں اس کی تصریح ہے کہ بارگاہ الٰہی میں پیشی ہوتی ہے۔(مرقات)

۲؎  یفیئا بنا ہے فیئٌ سے بمعنی لوٹنا رجوع کرنا،رب تعالیٰ فرماتاہے:"تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ"۔یہ ضرب کا مضارع تثنیہ ہے۔خیال رہے کہ لوگوں کے اعمال جمعہ کے دن حضرات انبیاءکرام بلکہ ماں باپ پر بھی پیش کیے جاتے ہیں،وہ حضرات ہماری نیکیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں گناہ دیکھ کر رنجیدہ اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ گناہ کرکے اپنے مرے ہوئے ماں باپ کو نہ ستاؤ،حضور صلی الله علیہ وسلم کو دکھ نہ دو اس کا یہ مطلب ہے۔(مرقات)

5031 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا

روایت ہے حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرادے ۲؎ بات بھلی کہے اور بھلی بات پہنچائے ۳؎(مسلم،بخاری)مسلم نے یہ زیادتی کی کہ فرماتی ہیں میں نے انہیں یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم کو نہیں سنا کہ آپ لوگ جو جھوٹ بولتے ہیں ان میں سے کسی چیز کی اجازت دیتے ہوں سوا تین جھوٹ کے ۴؎ جنگ ۵؎ لوگوں کے درمیان صلح اور مرد کی اپنی بیوی سے بات اور بیوی کی اپنی خاوند سے بات ۶؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن