30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ دین سے مراد یا تو ملت و مذہب ہے یا سیرت و اخلاق،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں یعنی عمومًا انسان اپنے دوست کی سیرت و اخلاق اختیار کرلیتا ہے کبھی اس کا مذہب بھی اختیار کرلیتا ہے لہذا اچھوں سے دوستی رکھو تاکہ تم بھی اچھے بن جاؤ۔صوفیاء فرماتے ہیں لاتصاحب الا مطیعا ولا تخالل الا تقیا نہ ساتھ رہو مگر الله رسول کی فرمانبرداری کرنے والے کے نہ دوستی کرو مگر متقی سے۔
۲؎ یعنی کسی سے دوستانہ کرنے سے پہلے اسے جانچ لو کہ الله رسول کا مطیع ہے یا نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَکُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ"۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ انسانی طبیعت میں اخذ یعنی لے لینے کی خاصیت سے،حریص کی صحبت سے حرص،زاہد کی صحبت سے زہد و تقویٰ ملے گا۔خیال رہے کہ خلت دلی دوستی کو کہتے ہیں جس سے محبت دل میں داخل ہوجاوے۔یہ ذکر دوستی و محبت کا ہے کسی فاسق و فاجر کو اپنے پاس بٹھا کر متقی بنا دینا تبلیغ ہے،حضور انور نے گنہگاروں کو اپنے پاس بلاکر متقیوں کا سردار بنادیا۔
۳؎ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں جیسے حافظ سراج الدین قزوینی، حافظ ابن حجر نے قزوینی کا بہت رد کیا اور حدیث کا صحیح ہونا ثابت کیا۔(مرقات و اشعہ)
|
5020 -[18] وَعَن يزِيد بن نَعامة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا آخَى الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلْيَسْأَلْهُ عَنِ اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَمِمَّنْ هُوَ؟ فَإِنَّهُ أَوْصَلُ للمودَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت یزید ابن نعامہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص کسی سے بھائی چارہ کرے ۲؎ تو اس سے اس کا نام اس کے باپ کا نام پوچھ لے اور یہ کہ وہ کس قبیلہ سے ہے کہ یہ تحقیقات دوستی کو مضبوطی دینے والی ہے ۳؎(ترمذی) |
۱؎ یہ جنگ حنین میں مشرکوں کے ساتھ تھے بعد میں اسلام لائے ان کی صحابیت میں اختلاف ہے ۔جامع اصول میں انہیں صحابی کہا،ابو حاتم نے کہا کہ بصری ہیں اور تابعی ہیں۔(اشعہ)ممکن ہے انہوں نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بحالت کفر سنی ہو اور مسلمان ہوجانے کے بعد روایت کی ہو کہ ایسی روایت معتبر ہے۔ (مرقات)اور اگر تابعی ہو تو تابعی کی مرسل حدیث صحیح ہے جب کہ وہ ثقہ ہوں۔
۲؎ یعنی اسے دینی بھائی بنائے اس سے میل جول پیدا کرنا چاہیے۔
۳؎ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو عالی خاندان سمجھ کر اس سے محبت کی بعد میں اس کے خلاف ظاہر ہوا تو نفرت ہوگئی اس لیے پہلے سے ہی سارے انتظامات کرے۔
|
5021 -[19] عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟»قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ. وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِهَادُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى أَبُو دَاوُد الْفَصْل الْأَخير |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیے ۱؎ فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کون سا عمل الله تعالٰی کو زیادہ پسند ہے ۲؎ کسی کہنے والے نے کہا کہ نماز اور زکوۃ اور کسی کہنے والے نے کہا جہاد۳؎ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالٰی کو بہت پیاراعمل الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ہے ۴؎(احمد)اور ابوداؤد نے آخری حصہ روایت کیا ۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع