30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ﷲ فی اللہ محبت صرف اجنبی سے ہی چاہیے اپنے عزیز و قرابت داروں سے نہ چاہیے اگرچہ وہ کیسا ہی نیک و صالح ہو، چونکہ دنیاوی محبتیں اکثر نسب اور مالی تعلق کی بنا پر ہوتی ہیں اس لیے ان ہی دو چیزوں کا ذکر فرمایا گیا طمع لالچ مال کی زیادتی ہوتی ہے۔
۵؎ یعنی ان کے چہرے نورانی ہوں گے اور وہ نور کے ممبروں پر ہوں گے جیسے دنیا کی مجلسوں میں معزز آدمی کو عزت کی جگہ بٹھایا جاتا ہے ایسے انہیں رب تعالٰی قیامت میں عزت کی جگہ عطا فرمائے گا تاکہ اہلِ محشر پر ان کی عظمت ظاہر ہو۔
۶؎ اس ارشاد عالی نے حضرات انبیاء کے رشک کی وجہ بیان فرمادی کہ یہ لوگ اس دن اپنی اور دوسروں کی فکروں سے آزاد ہوں گے اس بے فکری اور آزادی پر رشک کیا جاوے گا انہیں نہ اپنے بخشے جانے کی فکر کہ وہ بخش دیئے گئے نہ دوسروں کو بخشوانے کی فکر کہ وہ کسی کے ذمہ دار نہیں لہذا حدیث بالکل واضح ہوگئی۔
۷؎ یا تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی اپنے فرمان عالی کی تائید کے لیے یا حضرت عمر رضی الله عنہ نے تلاوت کی حدیث کی تقویت کے لیے۔خیال رہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث بھی اگر قرآنی آیت سے قوت پائے تو صحیح ہوجاتی ہے یعنی ان لوگوں کو نہ عذاب کا خوف ہوگا نہ ثواب جاتے رہنے کا غم۔
|
5013 -[11] وَرَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْ أَبِي مَالِكٍ بِلَفْظِ «الْمَصَابِيحِ» مَعَ زَوَائِدَ وَكَذَا فِي «شُعَبِ الْإِيمَان» |
اور اسے شرح سنہ میں حضرت ابو مالک سے روایت کیا ۱؎ مصابیح کے الفاظ میں مع زیادہ کے یوں ہی شعب الایمان میں ہے۔ |
۱؎ آپ کا نام کعب ابن عاصم ہے،کنیت ابو مالک ہے،اشعری ہیں،صحابی ہیں،آپ سے بہت حضرات نے روایات نقل کیں،عہدِ فاروقی میں وصال ہوا۔(مرقات)
|
5014 -[12] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟» قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ:«الْمُوَالَاةُ فِي اللَّهِ وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ».رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوذر سے فرمایا اے ابوذر ایمان کی گرہوں میں سے کون سی گرہ ۱؎ مضبوط ہے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں فرمایا الله کی راہ میں دوستی الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ۲؎(بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ عری جمع ہے عروۃ کی،عروہ رسی کا وہ کنارہ جو ڈول سے بندھا ہوتا ہے اور ڈول اس سے وابستہ ہوتا ہے پھر ہر اس چیز کو عروہ کہا جانے لگا جس سے کوئی چیز پکڑی جاوے جیسے کوزہ کا دستہ وغیرہ لہذا عروہ کے معنی گرہ بہت مناسب ہے یہاں اس سے مراد ایمان کے ارکان اور مؤمنوں کے اعمال ہیں یعنی ایمان کا کون سا رکن اور مؤمن کا کون سا عمل زیادہ لائق بھروسہ ہے۔
۲؎ دو طرفہ دوستی موالات ہے اور یک طرفہ دوستی حب،یوں ہی دو طرفہ عداوت معادات ہے یک طرفہ دشمنی بغض۔ (مرقات)یعنی لڑائی الله کے لیے ہے ملاپ الله کے لیے یعنی جو الله کا مقبول ہو وہ ہمارا پیارا ہوجائے اگرچہ اجنبی ہو اور جو الله کا مردود ہو وہ ہمارا دشمن ہوا اگرچہ قرابت دارہو۔حضرت سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا
ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فداء یک تن بیگانہ کاشنا باشد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع