30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ لوگ ایسے درجے میں ہیں کہ ہماری امت میں نہیں یا یہ مقصد ہے کہ وہ حضرات اپنی امت کا حساب کرا رہے ہوں گے اوریہ لوگ آرام سے ان منبروں پر بے فکری سے آرام کررہے ہوں گے تو حضرات انبیاءکرام ان لوگوں کی بے فکری پر رشک کریں گے کہ ہم مشغول ہیں یہ فارغ البال۔بہرحال اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ یہ حضرات انبیاء کرام سے افضل ہوں گے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)
|
5012 -[10] وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءٍ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الأنبياءُ والشهداءُ يومَ القيامةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟ قَالَ: «هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللَّهِ عَلَى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا فَوَاللَّهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ وَإِنَّهُمْ لَعَلَى نُورٍ لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزَنَ النَّاسُ» وَقَرَأَ الْآيَةَ: (أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُم يحزنونَ)رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله کے بعض بندے وہ ہیں ۱؎ جو نہ تو نبی ہیں نہ شہید ان پر حضرات انبیاء شہداء قیامت کے دن رشک کریں گے ان کے قربِ الٰہی کی وجہ سے ۲؎ لوگ بولے یارسول الله ہمیں خبر دیں کہ وہ کون لوگ ہیں فرمایا وہ وہ قوم ہے جو الله کے قرآن کی وجہ سے۳؎ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں بغیر آپس کی قرابت داری کے اور بغیر آپس کی مالی لین دین کے ۴؎ تو الله کی قسم ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور پر ہوں گے ۵؎ جب لوگ ڈریں گے یہ نہ ڈریں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو یہ غمگین نہ ہوں گے ۶؎ اوریہ آیت تلاوت فرمائی خبردار رہو بے شک الله کے ولی نہ ان پر ڈر ہے نہ وہ غمگین ہوں ۷؎(ابوداؤد) |
۱؎ اناس جمع فرماکر یہ بتایا کہ یہ حضرات انسان ہیں اور وہ ایک دو نہیں بلکہ پوری جماعت ہے یہ اولیاء الله ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔
۲؎ اس فرمان عالی کا مطلب ابھی عرض کردیا گیا کہ ان حضرات کے قربِ الٰہی کی انبیاء کرام شہداء عظام تعریف کریں گے یا ان کی بے غمی بے فکری پر رشک کریں گے۔قیامت میں گنہگاروں کو اپنی حضرات انبیاء کرام کو اپنی امت کی فکر بھی ہوگی غم بھی مگر یہ حضرات اپنے اور دوسروں کے غم و فکر سے آزاد ہوں گے اس آزادی پر حضرات انبیاء رشک کریں گے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ یہ لوگ انبیاءکرام سے افضل ہوں، رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ"یہاں اولیاءالله فرمایا گیا انبیاء نہ ارشاد ہوا۔
۳؎ قوی یہ ہے کہ روح الله ر کے ضمہ سے ہے بمعنی زندگی بخش چیز اور اس سے مراد قرآن کریم ہے کہ یہ بھی مسلمانوں کو جاودانی زندگی بخشتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا"اس کی اور بھی شرحیں کی گئی ہیں یعنی قرآن مجید کی اتباع اس کے احکام کی پابندی کی وجہ سے محبت کرتے ہیں کہ یہ لوگ پکے مسلمان ہیں۔
۴؎ یعنی ان کی اس محبت کی وجہ آپس کی قرابتداری اور مالی لین دین نہیں ہوتی،صرف اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ الله کا مقبول بندہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مطیع فرمان ہے خواہ اپنا عزیز ہو یا اجنبی لہذا حدیث واضح ہے،اس کا یہ مطلب نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع