30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ سبحان الله! کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی،بھٹی والے سے مشک نہیں ملے گا گرمی اور دھواں ہی ملے گا،مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں مشک یا خوشبو ہی ملے گی۔
۲؎ یہ ادنی نفع کا ذکر ہے مشک خرید لینا یا اس کا مفت ہی دے دینا اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا ادنی نفع ہے۔خیال رہے کہ ابوجہل وغیرہ دشمنان رسول حضور کے پاس حاضر ہوئے ہی نہیں وہاں حاضری محبت سے حاصل ہوتی ہے۔
۳؎ اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ حتی الامکان بری صحبت سے بچو کہ یہ دین و دنیا برباد کردیتی ہے اور اچھی صحبت اختیار کرو کہ اس سے دین و دنیا سنبھل جاتے ہیں۔سانپ کی صحبت جان لیتی ہے،برے یار کی صحبت ایمان برباد کردیتی ہے۔
مار بد تنہا ہمیں برجاں زند یار بد بر دین و بر ایمان زند
صوفیاءکرام کے نزدیک ساری عبادات سے افضل صحبت نیک ہے آج مسلمان نمازی،غازی،حاجی،قاضی بنتے رہتے ہیں مگر صحابی نہیں بنتے کہ صحابی صحبت نبی سے بنتے تھے وہ صحبت اب کہاں نصیب۔حضور سب کچھ دے گئے مگرصحبت ساتھ ہی لے گئے صلی الله علیہ وسلم۔
|
5011 -[9] وَعَن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَ الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ". رَوَاهُ مَالِكٌ. وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيَّ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاء " |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تعالٰی نے فرمایا میری محبت میرے بارے میں محبت کرنے والوں اور میرے بارے میں بیٹھنے والوں ملاقات کرنے والوں اور میری راہ خرچ کرنے والوں کے لیے لازم ہوگئی ۱؎ ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا کہ الله تعالٰی فرماتا ہے کہ میری راہ میں محبت کرنے والے ان کے لیے نور کے منبر ہیں ان پر نبی اور شہداء رشک کریں گے ۲؎ |
۱؎ یعنی یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص ان تین کاموں میں سے کوئی کام کرے اور الله تعالٰی اس سے محبت نہ کرے،الله کی راہ میں اس کے بندے سے محبت کی جائے اور خدا تعالٰی اس سے محبت نہ کرے،خدا کو سجدہ کرنا ہو تو کعبہ کی طرف سجدہ کرو،اگر رب تعالٰی سے محبت کرنا ہو تو اس کے بندوں سے محبت کرو یہ بندے محبت الٰہی حاصل کرنے کے لیے گویا کعبہ ہیں۔
۲؎ یا تو یہاں غبطہ سے مراد ہے خوش ہونا تب تو حدیث واضح ہے کہ حضرات انبیاءکرام ان لوگوں کو اس مقام پر دیکھ کر بہت خوش ہوں گے اور ان لوگوں کی تعریف کریں گے۔(مرقات)اور اگر غبطہ بمعنی رشک ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ اگر حضرات انبیاء و شہداء کسی پر رشک کرتے تو ان پر کرتے تو یہ فرضی صورت کا ذکر ہے۔(اشعۃ اللمعات)یا یہ رشک اپنی موت کی بنا پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع