30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5009 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: «وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟» قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ» . قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِهَا. مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله قیامت کب ہے فرمایا افسوس تجھ پر تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ۱؎ وہ بولا میں نے اس کی تیاری کوئی نہیں کی بجز اس کے کہ میں الله اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ۲؎ فرمایا تو اسکے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہو، حضرت انس نے فرمایا کہ میں نے مسلمانوں کو اسلام کے بعدکسی چیز پر ایسا خوش ہوتے نہ دیکھا جیسا کہ وہ اس سے خوش ہوئے ۳؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ افسوس غضب کے لیے نہیں کرم کے لیے ہے جیسے حضرت ابوذر غفاری سے فرمایا علی رغم انف ابی ذر اس کلمہ کا مزہ وہ جانے جسے دل سے لگی ہو یا مقصد یہ ہے کہ تو اعمال تو کرتا نہیں صرف قیامت کے متعلق پوچھتا ہے۔
۲؎ یہ صاحب بڑے متقی پرہیزگار عبادت گزار تھے مگر انہوں نے اپنے اعمال کو قیامت کی تیاری قرار نہ دیا کہ یہ سب نیکیاں تو الله کی نعمتوں کا شکریہ ہے جو مجھے دنیا میں مل چکیں اور مل رہی ہیں آخرت کی تیاری صرف یہ ہے کہ مجھے اس برأت کے دولہا سے محبت ہے،دولہا سے تعلق اس سے محبت برأت کے کھانے والے جوڑے انعام کا مستحق بنادیتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ الله رسول سے محبت سائرین اور طائرین کے مقامات میں سے اعلیٰ مقام ہے،ساری عبادات محبت کی فروغ ہیں مگر محبت کے ساتھ اطاعت بلکہ متابعت ضروری ہے۔برات کا کھانا صرف عمدہ لباس سے نہیں ملتا بلکہ دولہا کے تعلق سے ملتا ہے اگر رب تعالٰی سے کچھ لینا ہے تو حضور سے تعلق پیداکرو۔
۳؎ یعنی حضرات صحابہ کرام کو سب سے بڑی خوشی تو اپنے اسلام لانے پر ہوئی تھی کہ اللہ تعالی نے انہیں مؤمن صحابی بننے کی توفیق بخشی اس کے بعد آج یہ فرمان عالی سن کر بڑی خوشی ہوئی۔اس خوشی کی وجہ یہ ہے کہ حضرات صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دل و جان سے فدا تھے،ان میں سے بعض تو حضور کے بغیر چین نہ پاتے تھے، انہیں کھٹکا تھا کہ مدینہ منورہ میں تو ہم کو حضور کی ہمراہی نصیب ہے کہ یار نے مدینہ میں اپنا کاشانہ بنایا ہے مگر جنت میں کیا بنے گا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اعلیٰ علیین سے بھی اعلیٰ ہوگا ہم کسی اور درجہ میں ہوں گے،آج حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھا دیا تمام کو تسلی دے دی فرمادیا کہ جس کو مجھ سے صحیح محبت ہوگی اسے مجھ سے فراق نہ ہوگا میرے ساتھ ہی رہے گا۔خیال رہے کہ یہاں درجہ کی ہمراہی یا برابری مراد نہیں بلکہ ایسی ہمراہی مراد ہے جیسے سلطان کے خاص خدام سلطان کے ساتھ اس کے بنگلہ میں رہتے ہیں۔سب سے بڑا خوش نصیب وہ ہے جسے کل حضور کا قرب نصیب ہوجاوے۔اس قرب کا ذریعہ حضور سے محبت ہے اور حضور کی محبت کا ذریعہ اتباع سنت،کثرت سے درود شریف کی تلاوت،حضور کے حالات طیبہ کا مطالعہ اور محبت والوں کی صحبت ہے یہ صحبت اکسیر اعظم ہے۔
|
5010 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تبتاعَ مِنْهُ وإِمَّا أَن تجدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يَحْرِقَ ثيابَكَ وإِمَّا أنْ تجدَ مِنْهُ ريحًا خبيثةً» . مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ۱؎ مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے۲؎ اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۳؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع