30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4218 -[60] وَعَن نُبَيْشَة عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت نبیشہ سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جو کسی پیالہ میں کھائے پھر اسے چاٹ لے ۱؎ تو اس کے لیے پیالہ دعاء مغفرت کرتا ہے ۲؎(احمد،ترمذی، ابن ماجہ،دارمی اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ پیالہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اکیلا آدمی اکثر پیالے میں کھاتا ہے بڑے برتن بڑی تھالی میں جماعت کھاتی ہے۔اکیلا کھانے والا اگر چھوڑے تو اتنا چھوڑے کہ دوسرا کھاسکے ورنہ پیالہ خوب صاف کردے،یہ ہی حکم چاول وغیرہ کا ہے۔
۲؎ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے تاویل ہیر پھیر کی کوئی ضرورت نہیں۔واقعی پیالہ ایسے کھانے والے کے لیے دعا کرتا ہےکیونکہ اس میں برتن کی صفائی ہے۔کھانے کا ادب ہےکھانے کو بربادی سے بچانا ہے۔برتن میں چھوڑنے سے اس پر مکھیاں بھنکتی ہیں،وہ کھانا نالیوں،گندگیوں میں دھو کر پھینک دیا جاتا ہے جس سے اس کی سخت بے ادبی ہوتی ہے،اگر دو تین اشرفی برتن کھانا برباد ہو تو ایک شہر میں کئی من کھانا برباد ہوگا غرضیکہ برتن چاٹنے میں بہت حکمتیں ہیں۔
|
4219 -[61] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ لَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو رات اس حال میں گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی ہے جسے دھویا نہیں ۱؎ پھر اسے کچھ مصیبت پہنچے ۲؎ تو اپنے ہی کو ملامت کرے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد، ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی جو کھانا کھا کر ہاتھ نہ دھوئے یوں کھانے کی چکنائی اس کے ہاتھ میں لگی رہے اور دوپہری میں یا رات میں اسی طرح سوجائے۔
۲؎ یہاں مصیبت سے مراد چوہے یا سانپ کا کاٹ جانا ہے کہ یہ دونوں جانور کھانے کی خوشبو پر دوڑتے ہیں یا اس سے مراد برص کی بیماری ہے کہ کھانے کے سنے ہوئے ہاتھ جسم کے پسینہ سے لگ کر جہاں چھو جائیں وہاں کوڑھ کے سفید داغ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔(مرقات و اشعہ)
۳؎ نہ کسی شخص کو برا کہے نہ اپنی تقدیر پر اعتراض کرے کہ قصور خود اس کا اپنا ہے۔مقصد یہ ہے کہ کوئی شخص کھانے کے بھرے ہوئے ہاتھ لے کر نہ سویا کرے۔
|
4220 -[62] وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدُ مِنَ الْخُبْزِ والثريدُ منَ الحَيسِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو محبوب ترین کھانا روٹی کا ثرید تھا ۱؎ اور کھجور و مکھن کا ثرید تھا ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ روٹی کا ثرید یہ ہے کہ شوربے میں روٹی کے ٹکڑے گلا لیے جائیں حتی کہ بوٹیاں بھی اس میں حل کرلی جائیں یہ نہایت لذیذ زود ہضم کھانا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع