30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان ۱؎
۱؎ فی الله کا فی یا تو اپنے ہی معنی پر ہے تو سبیل پوشیدہ ہے یا بمعنی لام ہے جیسے رب فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا" یعنی الله کی راہ میں محبت یعنی کسی بندے سے صرف اس لیے محبت کرے کہ رب تعالٰی اس سے راضی ہوجاوے،اس میں دنیاوی غرض ریا نہ ہو اس محبت میں ماں باپ،اولاد اہل قرابت مسلمانوں سے محبت سب ہی داخل ہیں جب کہ رضا الٰہی کے لیے ہوں۔حضرات اولیاء انبیاء سے محبت سبحان الله! یہ تو حب فی الله کا اعلٰی درجہ ہے خدا نصیب کرے۔
۲؎ محبت من الله سے مراد وہ محبت ہے جو رب بندے سے محبت فرماوے اور اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دے جیساکہ بعض بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ان کی آستانوں پر لوگوں کے میلے لگے رہتے ہیں لہذا ان دونوں عبارتوں میں تکرار نہیں دونوں مستقل مضمون ہیں۔
|
5003 -[1] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ 5004 -[2] وَرَوَاهُ مُسلم عَن أبي هُرَيْرَة |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ روحیں مخلوط لشکر ہیں ۱؎ تو ان میں سے جو جو جان پہچان رکھتی ہیں وہ الفت کرتی ہیں اور جو اجنبی رہ چکی ہیں وہ الگ رہتی ہیں۔(بخاری) اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔ |
۱؎ یعنی انسانی روحیں بدنوں میں آنے سے پہلے آپس میں مخلوط تھیں اس طرح کہ سعید روحیں ایک گروہ تھیں اور شقی روحیں دوسرا گروہ مگر سعید آپس میں مخلوط مخلوط تھیں اور شقی آپس میں مخلوط۔
|
5005 -[3] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ قَالَ: فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ. وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ: إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ. فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فَلَانَا فَأَبْغِضُوهُ. قَالَ: فَيُبْغِضُونَهُ. ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ۱؎ تو حضرت جبریل کو بلاتا ہے پھر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں ۲؎ تم اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل اس سے محبت کرتے ہیں۳؎ آسمان میں اعلان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ الله تعالٰی فلاں سے محبت کرتا ہے۴؎ تم لوگ اس سے محبت کرو ۵؎ تو اس سے آسمان والے محبت کرتے ہیں۶؎ پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے ۷؎ اور جب رب تعالٰی کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو فرماتا ہے کہ میں فلاں سے ناراض ہوں تو تم بھی اس سے ناراض ہوجاؤ فرمایا کہ جبرئیل اس سے ناراض ہوجاتے ہیں پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ الله تعالٰی فلاں سے ناراض ہے تم لوگ بھی اس سے ناراض ہوجاؤ ۸؎ فرمایا پھر وہ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لیے نفرت رکھ دی جاتی ہے ۹؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع