30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5000 -[54] وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ خَصْمَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جَارَانِ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ پہلے دو جھگڑے والے قیامت کے دن دو پڑوسی ہوں گے ۱؎ (احمد) |
۱؎ یعنی قیامت کے دن سب سے پہلے پڑوسیوں کے جھگڑے چکائے جائیں گے پہلے ان کے فیصلے ہوں گے پھر دوسروں کے یہ اولیت اضافی ہے حقیقی نہیں،یعنی دوسرے جھگڑوں کے مقابلہ میں پڑوسیوں کے جھگڑے پہلے بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں گے۔ خیال رہے کہ عبادات میں پہلے حساب نماز کا ہوگا،معاملات میں پہلے حساب خون ناحق کا ہوگا،اداءحقوق میں پہلے حساب پڑوسیوں کا ہوگا۔
|
5001 -[55] وَعَن أبي هُرَيْرَة أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ: «امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيم وَأطْعم الْمِسْكِين» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے سختی دل کی شکایت کی فرمایا یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ ۱؎(احمد) |
۱؎ سبحان الله! عجیب علاج ہے یتیموں مسکینوں پر مہربانی الله تعالٰی کی رحمت کا ذریعہ ہے اور الله کی رحمت سے دل نرم ہوتا ہے،رب فرماتاہے:"اَوْ اِطْعٰمٌ فِیۡ یَوْمٍ ذِیۡ مَسْغَبَۃٍ یَّتِیۡمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ اَوْ مِسْکِیۡنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ"۔نرمی قلب الله کی بڑی رحمت ہے علاج بالضد ہوتا ہے تکبر کا علاج تواضع سے،بخل کا علاج سخاوت سے ہوتا ہے ایسے ہی سختی دل کا علاج غریبوں یتیموں پر رحم سے ہے۔
|
5002 -[56] وَعَن سراقَة بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت سراقہ ابن مالک سے ۱؎ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو بہترین صدقہ پر رہبری نہ کروں ۲؎ تمہاری وہ بیٹی جو تم تک لوٹا دی جاوے تمہارے سواء اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۳؎(ابن ماجہ) |
۱؎ آپ سراقہ ابن مالک ابن جعشم ہیں،قبیلہ بنی مدلج سے،آپ کے حالات بیان کیے جاچکے ہیں۔
۲؎ یہاں صدقہ سے مراد شرعی صدقہ واجبہ نہیں وہ تو اپنی اولاد کو جائز نہیں بلکہ مراد نیکی اور کار ثواب ہے۔ اس کا بہترین نیکی ہونا اس لیے ہے کہ اس میں حق قرابۃ کا ادا کرنا بھی ہے اوربے کس کی پرورش بھی ایک عصمت والی بی بی کی حفاظت بھی۔
۳؎ یعنی تمہاری وہ بیٹی جس کا خاوند فوت ہوگیا یا پاگل دیوانہ ہوگیا یا گم ہوگیا یا اس نے طلاق دے دی مگر لڑکی کسی مجبوری کی وجہ سے دوسرا نکاح نہیں کرسکتی یا اسے اچھا رشتہ ملتا نہیں اس لیے مجبورًا وہ میکے میں آگئی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا،اس کی پرورش کرنا بہترین صدقہ ہے کہ وہ اب بے آس ہوکر تمہارے سہارے پر تمہارے پاس آئی،بعض لوگ خود لڑکیوں کو اپنے گھر بٹھالیتے ہیں اسے بلاوجہ بسنے نہیں دیتے وہ یہاں مراد نہیں ایسے لوگ تو بڑے مجرم ہیں اس لیے مردودۃ ارشاد ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع