30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی کسی کو اچھے عقیدے اچھے اعمال کی توفیق ملنا اس کی علامت ہے کہ رب تعالٰی اس سے محبت کرتا ہے اپنی خاص نعمت خاص غلاموں کو دی جاتی ہے۔
۵؎ یعنی مؤمن کامل وہ ہی ہوگا جس کا دل بدعقیدگیوں،حسد،کینہ سے پاک و صاف ہو،سینہ کینہ سے پاک رکھو تاکہ اس میں انوار مدینہ جلوہ گر ہوں۔بہرحال عبادت سے زیادہ اہم معاملات ہیں الله تعالٰی ہمارے معاملات درست کرے۔
۶؎ چونکہ پڑوسی سے ہر وقت معاملہ رہتا ہے اس لیے زیادہ تعلق اسی سے ہوتا ہے جب پڑوسی ہی راضی ہو تو دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ راضی ہوں گے۔
|
4995 -[49] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» رَوَاهُمَا أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن الفت والا ہوتا ہے ۱؎ اور اس میں خیر نہیں جو نہ الفت کرے نہ اس سے الفت والا ہوتا ہے ۱؎ اور اس میں خیر نہیں جو نہ الفت کرے نہ اس سے الفت کی جاوے ۲؎(احمد،بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ مألف مصدر میمی ہے بمعنی اسم فاعل یعنی الفت والا کہ اسے الله تعالٰی اس کے محبوب صلی الله علیہ وسلم اور حضور کی امت سے الفت ہوتی ہے اور امت کو اسی سے الفت ہوتی ہے اس کی طرف دل خودبخود کھینچتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ مألف اسم ظرف ہو یعنی مؤمن الفت کی جگہ ہوتا ہے اس میں لوگوں کی الفتیں جمع ہوتی ہیں۔
۲؎ یعنی مسلمانوں سے وہ متنفر ہو اور مسلمان اس سے متنفر ہوں ایسا شخص نورِ ایمانی سے محروم ہے۔خیال رہے کہ مسلمانوں سے الفت رکھنا کچھ اور ہے لوگوں کی شر سے بچنے کے لیے علیٰحدہ رہنا کچھ اور ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ اپنا گھر واپس پکڑو۔
|
4996 -[50] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَضَى لِأَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي حَاجَةً يُرِيدُ أَنْ يَسُرَّهُ بِهَا فَقَدْ سَرَّنِي وَمَنْ سَرَّنِي فَقَدْ سَرَّ اللَّهَ وَمَنْ سرَّ الله أدخلهُ الله الْجنَّة» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو میری کسی امتی کی حاجت پوری کرے اس سے اس کی خوشی چاہتا ہو ۱؎ تو اس نے مجھے خوش کیا ۲؎ اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے الله کو خوش کیا۳؎ اور جس نے الله کو خوش کیا الله اسے جنت میں داخل کرے گا ۴؎ |
۱؎ یعنی اس حاجت روائی سے اس بندہ مؤمن کو خوش کرنا چاہتا ہو محض ایمانی رشتہ کی بنا پرکسی اور وجہ سے نہیں۔
۲؎ یعنی اس امتی بندے کی خوشی سے مجھے خوشی ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ تاقیامت حضور صلی الله علیہ وسلم کو ہر ہر شخص کے ہر ظاہر باطن جسمانی دلی حالات کی خبر ہے اگر حضور بے خبر ہوں اور مؤمن کی خوشی کا حضور کو علم نہ ہو تو آپ کو خوشی کیسے ہو۔
۳؎ اس فرمان عالی سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نیک عمل سے مؤمن کو راضی کرنے اور مؤمن کی رضا کے ذریعہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو راضی کرنے کی نیت کرنا شرک نہیں ریا نہیں بالکل جائز ہے۔جب کہ اپنی نامود اور ناموری مقصود
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع