30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ حضور انور کا یہ سوال اگلے مضمون کی تمہید ہے ورنہ حضور انور کو تو ہر ایک دل کا ہر حال معلوم ہے۔شعر
اے فروغت صبح آثار و دھور چشم تو بینندہ ما فی الصدور
۳؎ یعنی حضور ہمارے محبوب ہمارے دلوں کے چین ہیں جو پانی حضور کے عضو سے مس ہو وہ ہی ہم کو پیارا ہے اس لیے اسے چومتے ہیں۔
۴؎ یعنی ہمارے غسالہ کو تبرکًا استعمال کرنا ممنوع یا بے کار نہیں بیشک اس سے برکت حاصل ہوتی ہے مگر الله رسول کی محبت کے لیے صرف یہ عمل کافی نہیں کہ یہ کام نفس پر گراں و بھاری نہیں یہ کام تو منافقین بھی کرلیتے ہیں الله رسول کی محبت کے لیے ان کی اطاعت و فرمانبرداری بھی ضروری ہے کہ وہ ہی نفس پر گراں ہے۔
۵؎ چونکہ یہ تین کام درستی معاملات کی جڑ ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔جو مسلمان معاملات درست کرلے گا اسے عبادات درست کرنا آسان ہوگا اور معاملات میں زبان سچی ہرقسم کی امانت کی ادائیگی اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک بڑی ہی اہم چیزیں ہیں۔کسی کو صرف اس کی عبادات اورکثرت نوافل سے نہ آزماؤ بلکہ معاملات سے آزماؤ،معاملات درست ہیں تو واقعی کامل ہے،آج بہت سے مسلمان ان ہی تین باتوں میں فیل ہوجاتے ہیں،نمازی حاجی بہت ہیں مگر سچے امتی تھوڑے،حضور صلی الله علیہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے ہی صادق الوعد امین کے لقب سے پکارے جاتے تھے کفارعرب ان القاب سے حضور کو یادکرتے تھے۔
|
4991 -[45] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِع إِلَى جنبه» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا فرماتے کہ مؤمن وہ نہیں جو خود سیر ہوجاوے اور اس کے برابر میں اس کا پڑوسی بھوکا ہو ۱؎ (بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ اگر اسے اپنے پڑوسی کی بھوک و محتاجی کی خبر ہو تب تو یہ بہت بے مروت ہے اور اگر خبر نہیں تو بہت لاپرواہ ہے۔مؤمن کو چاہیے کہ اپنے عزیزوں قرابت داروں،پڑوسیوں محلہ والوں کے حالات کی خبر رکھے،اگر کسی کی حاجت مندی کا پتہ چلے تو ان کی حاجت روائی کو غنیمت جان کر کرے۔
|
4992 -[46] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةً تُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا. قَالَ: «هِيَ فِي النَّارِ» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ فُلَانَةً تُذْكَرُ قِلَّةَ صِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصَلَاتِهَا وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ وَلَا تؤذي جِيرَانَهَا. قَالَ: «هِيَ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله فلاں بی بی اس کی نماز روزے صدقات کی فراوانی کا چرچا ہےبجز اس کے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ستاتی ہے ۱؎ فرمایا کہ وہ آگ میں ہے ۲؎ عرض کیا یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم تو وہ فلاں عورت اس کی نماز روزے صدقات کی کمی کا ذکر ہوتا ہے۳؎ وہ تو پنیر کے کچھ ٹکڑے ہی خیرات کرتی ہے۴؎ اور وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی فرمایا وہ جنتی ہے ۵؎ (احمد،بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع