30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اسے خبر دے کر یا اس کے لیے دعا خیرکرکے۔حضرت عمر رضی الله عنہ فرماتے تھے کہ الله اس پر رحم کرے جو مجھے میرے عیوب پر مطلع کرےعیوب فرماکر بتایا کہ ہمارا نفس عیبوں کا سرچشمہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مؤمنوں کے پاس بیٹھا کریں جن کے ذریعہ انہیں اپنے عیوب پر اطلاع ہو۔آئینہ اس لیے دیکھتے ہیں کہ اپنے چہرے کے چھوٹے بڑے داغ دھبہ نظر آجاویں۔طبیب کے پاس اسی لیے جاتے ہیں کہ وہاں علاج ہوجاوے ایسے مؤمنوں کی صحبت اکسیر ہے۔اس لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ ہمیشہ اپنے مریدوں اپنے شاگردوں کے پاس نہ بیٹھو جو ہر وقت تمہاری تعریفیں ہی کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اپنے مرشدوں اپنے استادوں اپنے بزرگوں کے پاس بھی بیٹھو جہاں تمہیں اپنی کمتری نظر آوے۔ہاتھی پہاڑ کو دیکھ کر اپنی حقیقت کو پہنچانتا ہے،ہمیشہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی عظمتوں میں غور کیا کرو تاکہ اپنی گنہگاری اپنی کمتری محسوس ہوتی رہے۔محققین صوفیاء اس حدیث کے یہ معنی کرتے ہیں کہ مؤمن جب کسی مسلمان میں عیب دیکھے تو سمجھے کہ یہ عیب مجھ میں ہے جو اس کے اندر مجھے نظرآرہا ہے جیسے آئینہ میں اپنے جو داغ دھبے نظر آتے ہیں وہ اپنے چہرے کے ہوتے ہیں نہ کہ آئینہ کے یہ معنی نہایت عارفانہ ہیں۔(اشعۃ اللمعات)اس لیے اگر خواب میں حضور انور کی زیارت ہو مگر شکل مبارک یا لباس خوشنما نہ ہو تو سمجھ لو کہ ہمارا اپنے دل کا حال خراب ہے اصلاح کرو۔اس صورت میں فلیمط عنہ کے معنی یہ ہوئے کہ مؤمن کے ذریعہ اپنے عیب معلوم کر کے اپنے عیوب دفع کرو۔
۳؎ یعنی مؤمن کی شان یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی پس پشت خیرخواہی کرے حتی کہ اگر کوئی اس کی غیبت کرے تو یا اسے غیبت سے روک دے یا اس کا جواب دے کر مؤمن کی عزت بچالے یا اسے سمجھا بجھاکر اس کی اصلاح کرے یا اس کے لیے اصلاح کی دعا کرے۔(مرقات)
|
4986 -[40] وَعَن معَاذ بن أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ بِهِ شَيْنَهُ حَبْسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت معاذ ابن انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کسی مسلمان کو کسی منافق سے محفوظ رکھے ۱؎ تو قیامت کے دن الله تعالٰی ایک فرشتہ بھیجے گا جو اس کے گوشت کی دوزخ کی آگ سے حفاظت کرے گا ۲؎ اور جو کسی مسلمان کو کسی چیز کی تہمت لگائے اس کی بے عزتی کا ارادہ کرتا ہو۳؎ تو الله اسے دوزخ کے پل پر روکے گا حتی کہ وہ اپنی اس بات سے باہر آجاوے۴؎(ابوداؤد) |
۱؎ یہاں منافق سے مراد غیبت کرنے والے کو اپنے عیب نہیں سوجھتے دوسرے کے نظر آتے ہیں یہ ہی منافق کا حال ہے یعنی غیبت کرنے والے سے اس مسلمان کی عزت بچائے۔
۲؎ اس طرح کہ وہ فرشتہ پل صراط پر اسے اپنے پروں میں ڈھانپ کرگزارے گا تاکہ اسے آگ کی تپش نہ پہنچنے پائے۔
۳؎ بے عزتی کے ارادہ کی قید اس لیے لگائی تاکہ معلوم ہو کہ کسی کی اصلاح کے لیے یا اس سے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے اس کی غیبت درست ہے کہ وہ غیبت نہیں۔
۴؎ یعنی جتنی دیر تک اس نے غیبت میں اپنا وقت صرف کیا اتنی دیر تک پل صراط پر روکا جاوے گا۔حضرت شیخ نے فرمایا کہ جب تک اس سے معافی نہ مانگے تب تک وہ غیبت ہی میں مشغول ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع