30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فان ابی و والدتی و عرضی لعرض محمد منکم وقاء
میرے ماں باپ میری عزت و آبرو محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی آبرو و عزت کے لیے تمہارے مقابلہ میں ڈھال ہیں۔
|
4982 -[36] وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَرُدُّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ:(وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نصر الْمُؤمنِينَ)رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے ابوالدرداء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا فرماتے کہ نہیں ہے کوئی مسلمان جو اپنے بھائی کی آبرو سے دفعیہ کرے مگر الله کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس سے قیامت کے دن دوزخ کی آگ دفع فرمادے ۱؎ پھر حضور نے یہ آیت تلاوت کی کہ ہم پر حق ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا ۲؎(شرح سنہ) |
۱؎ یہ فرمان عالی بہت ہی عام ہے جو کوئی کسی مسلمان کی آبرو کسی طرح بچائے خواہ اس کے سامنے یا اس کے پس پشت الله اسے دوزخ کی آگ سے بچائے گا مسلمان کی عزت الله کو بڑی پیاری ہے۔
۲؎ یہ آیت کریمہ یا تو خود حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے تلاوت کی اپنے فرمان مبارک کی تائید میں یا حضرت ابوالدرداء رضی الله عنہ نے تلاوت کی اسی حدیث کی تائید میں۔دوستو! آج حضرات صحابہ پر بہت طعن ہورہے ہیں اٹھو ان کی عظمتوں کے ڈنکے بجاؤ دیکھو پھر رب تعالٰی اور اس کے محبوب صلی الله علیہ وسلم کے آستانوں سے کیسے انعام ملتے ہیں،ان حضرات کی حمایت میں کتابیں چھاپنا،تقریریں کرنا،ان کے فضائل کی آیت و احادیث شائع کرنا سب ہی قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔فقیر نے ایک رسالہ لکھا ہے حضرت امیر معاویہ پر ایک نظر جس میں حضرات صحابہ خصوصًا جناب امیر معاویہ رضی الله عنہم اجمعین کے فضائل کی احادیث و آیات جمع کرکے ان کے فضائل بیان کیے اور ان حضرات سے مخالفین کے اعتراضات دفع کیے خدا کرے یہ حقیر سی خدمت اس فرمان عالی کی برکت سے قبول ہوجاوے اور رب تعالٰی میری سیاہ کاریاں معاف فرمادے۔
|
4983 -[37] وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ وَمَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ عرضه وينتهك فِيهِ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نصرته» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی مسلمان آدمی جو کسی مسلمان آدمی کو ایسی جگہ رسوا کرے جہاں اس کی بے عزتی کی جارہی ہے ۱؎ اور اس کی آبرو ریزی کی جارہی ہے مگر الله تعالٰی اسے ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا جہاں وہ اپنی مدد چاہتا ہوگا۲؎ اور نہیں ہے مسلمان آدمی جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ مددکرے جہاں اس کی عزت گھٹائی جارہی ہو اور جس میں اس کی آبرو ریزی کی جارہی ہو مگر الله اس کی ایسی جگہ مدد کرے گا جس میں اس کی مدد اسے محبوب ہو۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس طرح کہ جب کچھ لوگ کسی مسلمان کی آبرو ریزی کررہے ہوں تو یہ بھی انکے ساتھ شریک ہوکر ان کی مدد کرے ان کی ہاں میں ہاں ملائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع