30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ عمومًا بیٹوں سے دنیاوی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ یہ جوان ہوکر ہماری خدمت کریں گے ہمیں کما کر کھلائیں گے لڑکیوں سے یہ امید نہیں ہوتی اس لیے لڑکیوں کا پالنا ان پر صبرکرنا ثواب ہے۔لڑکیاں خواہ بیٹیاں ہوں خواہ بہنیں انہیں سکھانے سے مراد ہے علم دین سکھانا،سینا،پرونا اور جن ہنروں کی انہیں ضرورت ہے وہ سکھانا جس سے وہ کسی محتاج نہ رہیں۔
۴؎ اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ الله کی رحمتیں اور اس کی بخشش حضور کے قبضہ میں دی گئی ہیں جس نعمت کو چاہیں عام فرمادیں(مرقات)دیکھو جو وعدہ تین لڑکیوں کے پالنے پر کیا گیا تھا ایک امتی کے سوال پر وہ ہی وعدہ دو بیٹیوں کے پالنے پر ہو گیا یہ ہے حضور کا مختار من الله ہونا۔حضور کے مختار کل ہونے کے دلائل ہماری کتاب سلطنت مصطفی میں ملاحظہ کرو۔
۵؎ آنکھوں سے مراد آنکھوں کی روشنی ہے اگرچہ تمام اعضاء الله کی نعمت ہیں اور ہم کو پیاری مگر آنکھیں وہ نعمت ہیں جن کی مدد سے سارے اعضاء کام کرتے ہیں،آنکھوں کے بغیر انسان محض دیوار بن کر رہ جاتا ہے اس پر صبرکرنا بہت ہی ثواب ہے، الله تعالٰی اپنے فضل و کرم سے حضور کے صدقہ سے ہماری آنکھیں بھی رکھے اور ثواب بھی عطا فرمائے وہ تو بڑا کریم ہے۔
|
4976 -[30] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يُؤَدِّبَ الرَّجُلُ وَلَدَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِصَاعٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَنَاصِحٌ الرَّاوِي لَيْسَ عِنْدَ أصحابِ الحَدِيث بِالْقَوِيّ |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص اپنے بچے کو ادب کی تعلیم دے اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ ایک صاع خیرات کرے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ناصح راوی محدثین کے نزدیک قو ی نہیں ۲؎ |
۱؎ یعنی اپنی اولاد کو ایک اچھی بات سکھانا خیرات کرنے سے افضل ہے کہ ایک صاع(ٹوپہ)ایک دن میں کھا کر ختم کیا جائے مگر ایک نیک بات کا فائدہ بچے کو عمر بھر پہنچے گا،اپنی لڑکیوں کو مال جہیز دینے سے بہتر یہ ہے کہ اعمال جہیز دیا جاوے،انہیں ایسی تعلیم و تربیت دو کہ وہ اپنی سسرال اپنی اولاد کو سنبھال لیں ہم نے ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جنہوں نے سسرال پہنچ کر سسرال کی کایا پلٹ دی سب کو ٹھیک کردیا۔
۲؎ یعنی یہ حدیث صرف ایک ہی اسناد سے مروی ہے اور اس اسناد میں ایک راوی ناصح بھی ہے جو حافظہ کا کمزور تھا اس لیے یہ حدیث ضعیف ہے مگر چونکہ یہ حدیث فضائل اعمال کی ہے لہذا قبول ہے کہ فضائل میں حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے اس حدیث کی تائید احادیث صحیحہ اور آیات قرآنیہ سے ہے۔طبرانی نے باسناد حسن مرفوعًا روایت کی کہ الله تعالٰی تمہارے ذریعہ ایک کو ہدایت دیدے تو تمہارے لیے ساری دنیا سے افضل ہے اسی طرح آیات قرآنیہ میں اس کی تائید ہے۔(مرقات)
|
4977 -[31] وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدَهُ مِنْ نُحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ:هَذَا عِنْدِي حَدِيث مُرْسل |
روایت ہے حضرت ایوب ابن موسیٰ سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں دیا جو اچھے ادب سے بہتر ہو ۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث مرسل ہے۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع