30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4974 -[28] بِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَحَ رَأْسَ يَتِيمٍ لَمْ يمسحه إلالله كَانَ لَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ تَمُرُّ عَلَيْهَا يَدُهُ حَسَنَاتٌ وَمَنْ أَحْسَنَ إِلَى يَتِيمَةٍ أَوْ يَتِيمٍ عِنْدَهُ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ» وَقرن بِي أُصْبُعَيْهِ.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے ۱؎ نہیں پھیرتا مگر الله کےلئے ہر بال کے عوض جس پر اس کا ہاتھ پھرے نیکیاں ہوں گی ۲؎ اور جو اپنے پاس رہنے والے یتیم یا یتیمہ سے بھلائی کرے جنت میں میں اور وہ ان کی طرح ہوں گےاور اپنی دو انگلیاں ملائیں ۳؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ ہاتھ پھیرنا محبت کے ساتھ ہو یا اس سے مراد ہے مطلقًا معمولی سی مہربانی حقیر سی محبت مگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں،یتیم کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرنا بھی عبادت ہے۔
۲؎ حدیث بالکل ظاہر معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں واقعی جو شخص اپنے عزیز یا اجنبی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے محبت و شفقت کا یہ محبت صرف الله رسول کی رضا کے لیے ہو تو ہر بال کے عوض اسے نیکی ملے گی۔یہ ثواب تو خالی ہاتھ پھیرنے کا ہے جو اس پر مال خرچ کرے،اس کی خدمت کرے،اسے تعلیم و تربیت دے سوچ لو کہ اس کا ثواب کتنا ہوگا۔
۳؎ یعنی وہ جنت میں میرا ساتھی یا پڑوسی ہوگا جیسے بادشاہ کے خدام بادشاہ کی کوٹھی میں ہی رہتے ہیں مگر خادم ہوکر ایسے ہی وہ بھی میرے ساتھ رہے گا مگر میرا امتی غلام ہوکر۔یہاں بھی احسن مطلق ہے یتیم بچہ سے کسی قسم کا سلوک ہو ثواب کا باعث ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم خود یتیم تھے اس لیے یتیم کی خدمت بڑی ہی اعلیٰ ہے۔ مصرع! یتیم ہو کے یتیموں کو پالنے والے۔ دو انگلیوں سے مراد کلمہ کی اور بیچ کی انگلی مراد ہے جن میں فاصلہ بالکل نہیں۔
|
4975 -[29] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آوَى يَتِيمًا إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ أَلْبَتَّةَ إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ. وَمَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ أَوْ مِثْلَهُنَّ مِنَ الْأَخَوَاتِ فَأَدَّبَهُنَّ وَرَحِمَهُنَّ حَتَّى يُغْنِيَهُنَّ اللَّهُ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ» . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ الله واثنتين؟ قَالَ: «واثنتين» حَتَّى قَالُوا: أَوْ وَاحِدَةً؟ لَقَالَ: وَاحِدَةً «وَمَنْ أَذْهَبَ اللَّهُ بِكَرِيمَتَيْهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كَرِيمَتَاهُ؟ قَالَ: «عَيْنَاهُ» . رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو کسی یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شامل کرے ۱؎ تو الله اس کے لیے جنت یقینی طور پر لازم فرمادیتا ہے مگر یہ کہ کوئی ایسا گناہ کرے جو ناقابلِ بخشش ہو ۲؎ اور جو تین بیٹیاں یا ان کی مثل بہنوں کی پروش کرے کہ انہیں ادب سکھائے ان پر مہربانی کرے حتی کہ الله انہیں بے نیاز کردے تو الله اس کے لیے جنت واجب کردیتا ہے۳؎ تو ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله اور دو کو فرمایا دو کو حتی کہ اگر لوگ کہتے یا ایک کو تو حضور فرما دیتے ایک کو۴؎ اور الله جس کی پیاری دو چیزیں دور کردے اس کے لیے جنت واجب ہوگئی عرض کیا یارسول الله دو پیاری چیزیں کیا ہیں فرمایا اس کی دونوں آنکھیں ۵؎(شرح السنہ) |
۱؎ کھانے پانی میں شامل کرنا عام ہے خواہ اسے اپنے ساتھ کھلائے پلائے یا اسے اپنے گھر میں رکھ کر اس کی پرورش کرے یا یتیم خانہ بنا کر ان پر خرچ کرے۔اب تو یتیم خانہ والے یتیموں سے بھیک منگواتے ہیں مسلمانوں میں بھکاریوں کی تعداد بڑھاتے ہیں۔
۲؎ یعنی شرک و کفر کہ یہ گناہ قابل بخشش نہیں،رب فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَبِہٖ "اسی طرح حقوق العباد بھی کسی نیک عمل سے معاف نہیں ہوتے وہ تو ادا کرنا ہی پڑیں گے یا حق والے سے معاف کرانا ہوں گے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع