30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی تم الله کی زمینی مخلوق پر رحم کرو انسانوں پر جانوروں پر تم پر وہ رحم کرے گا جس کی رحمت خاصہ جس کی سلطنت آسمانوں میں بھی ہے یعنی رب تعالٰی یا اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی فرشتے تمہاری حفاظت کریں گے تمہا رے لیے دعاءمغفرت کریں گے۔(مرقات)
|
4970 -[24] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَلَمْ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ۲؎ اور اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے۳؎ ترمذی اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
۱؎ یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں،یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری امت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا ہاں جو حضرات انبیاء کرام کی توہین کرے وہ اسلام سے خارج ہے۔
۲؎ یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے،چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو خواہ علم کی خواہ درجہ کی یہ فرمان بہت عام ہے۔خیال رہے کہ صغیرنا اور کبیرنا فرماکر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا ادب ان پر رحم چاہیے یہ قید بھی زیادتی اہتمام کے لیے ہے ورنہ کافر ماں باپ کا بھی مادری ادب کافر چھوٹے بھائی پر بھی قرابت داری کا رحم چاہیے جیساکہ فقہاء کے فرامین اور دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے یوں ہی ان کے حقوق قرابت ادا کرے۔(اشعہ)
۳؎ ہرشخص اپنی طاقت اور اپنے علم کے مطابق دینی احکام لوگوں میں جاری کرے یہ صرف علماء کا ہی فرض نہیں سب پر لازم ہے۔حاکم ہاتھ سے برائیاں روکے،عالم عام زبانی تبلیغ سے یہ فرض انجام دے فی زمانہ اس سے بہت غفلت ہے۔
|
4971 -[25] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا مِنْ أَجْلِ سِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ عِنْد سنه من يُكرمهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کوئی جوان کسی بوڑھے کا اس کی عمر کی وجہ سے احترام نہیں کرتا مگر الله اس کے بڑھاپے پر اسے مقرر کرے گا جو اس کا احترام کرے ۱؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی جو شخص بوڑھے مسلمان کا صرف اس لیے احترام کرے کہ اس کی عمر زیادہ ہے،اس کی عبادات مجھ سے زیادہ ہیں،یہ مجھ سے پرانے اسلام والا ہے تو ان شاءالله دنیا میں وہ دیکھ لے گا کہ اس کے بڑھاپے کے وقت لوگ اس کا احترام کریں گے۔اس وعدے میں فرمایا گیا کہ ایسا آدمی دراز عمر بھی پائے گا دنیا میں مال،عیش، عزت بھی اسے ملے گی آخرت کا اجر اس کے علاوہ ہے۔خود اس حدیث کے راوی حضرت انس نے حضور کی دس سال خدمت کی دیکھ لو کہ ان کی عمر ایک سو تین سال ہوئی ان کی زندگی میں ان کی اولاد کی تعداد ایک سو ہوئی یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد ایک مخلوق نے ان سے احادیث روایت کیں،جہاں پہنچ جاتے تھے لوگ ان کی زیارت کے لیے جمع ہوجاتے تھے۔(مرقات)یہ ہے اس حدیث کا ظہور اور اس وعدہ نبوی کی جیتی جاگتی تصویر و تفسیر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع