30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ بوٹی دانت سے نوچ کر کھانا بھی سنت ہے اس میں بے تکلفی بھی ہے،لذت بھی تواضع اور انکسار بھی۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہر ادا پر لاکھوں سلام،ان کی ہر ادا رب تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
|
4215 -[57] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صُنْعِ الْأَعَاجِمِ وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالا: ليسَ هُوَ بِالْقَوِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ گوشت چھری سے نہ کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کے معمولات سے ہے ۱؎ اور اسے نوچ کر کھاؤ کہ مزیدار اور جلد اترنے والا ہے ۲؎ ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان اور ان دونوں نے کہا یہ قوی نہیں۳؎ |
۱؎ یعنی کھانے کو ہاتھ نہ لگانا چھری کانٹے سے کھانا،گوشت کی اگرچہ چھوٹی بوٹیاں ہوں خوب گلی ہوں پھر بھی چھری سے کھانا طریقہ یہودیوں عیسائیوں کا ہے۔اس سے بچو تم ہاتھ سے کھاؤ،ہاں اگر بڑے بڑے پارچے کھائے گئے ہوں تو کھاتے وقت چھری سے کاٹنے کا ذکر ہے کہ وہاں پٖارچے بڑے بڑے تھے۔خیال رہے کہ عیسائیوں کے ناخن بڑے بڑے ہوتے ہیں جن میں میل بھرا رہتا ہے پھر وہ پانی سے استنجا کرتے نہیں ہاتھ کبھی دھوتے نہیں اس لیے وہ ہاتھ سے کھاتے نہیں،ہم مسلمان حضورصلی الله علیہ وسلم کے کرم سے سر سے پاؤں تک بالکل پاک و صاف رہتے ہیں ہم ہاتھ سے کیوں نہ کھائیں۔
۲؎ یعنی دانت سے نوچی ہوئی بوٹیاں مزیدار زود ہضم اور جلد کھائی جانے والی ہوتی ہیں اس لیے اسی طرح کھایا کرو۔
۳؎ اگر یہ حدیث قوی نہ ہو تو وہ حدیث تو قوی ہے من تشبہ بقوم فھو منھم جو کسی قوم سے مشابہت ان کی نقالی کرے وہ اس قوم سے ہوتا ہے۔حدیث کی اسناد کیسی ہی ہوں حکم بالکل درست ہے،یہ حدیث اس صحیح حدیث سے قوت یافتہ ہے قرآن کریم کی آیت سے بھی قوت پاتی ہے"لَایَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔ کفر سے دلی یا عملی محبت حرام ہے۔آپ نو مسلم عیسائیوں کی نقالی میں کھڑے کھڑے کھاتے ہیں ہاں ابھی ہاتھ سے کھاتے ہیں برتن میں منہ نہیں ڈال دیتے۔
|
4216 -[58] وَعَن أُمِّ المنذِر قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلِيٍّ: «مَهْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّكَ نَاقِهٌ» قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ام منذر سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ میرے پاس نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ جناب علی تھے اور ہمارے ہاں خوشے لٹکے ہوئے تھے ۲؎ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کھانے لگے اور علی بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے۳؎ تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب علی سے فرمایا اے علی ٹھہرو۴؎ کیونکہ تم کمزور ہو ۵؎ فرماتی ہیں پھر میں نے ان حضرات کے لیے چقندر اور جو تیار کیے ۶؎ تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے علی اس سے لو کیونکہ یہ تمہارے لیے بہت موافق ہے ۷؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع