30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ عام مسلمانوں کی نصیحت یہ ہے کہ بقدر طاقت ان کی خدمت کرنا،ان سے دینی و دنیا مصیبتیں دورکرنا،ان سے محبت کرنا،ان میں علم دین پھیلانا،اعمال نیک کی رغبت دینا،جو چیز اپنے لیے پسند نہ کرے ان کے لیے پسند نہ کرنا یہ حدیث بہت ہی جامع ہے۔
|
4967 - (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن جرير بن عبد الله قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لكل مُسلم. |
روایت ہے حضرت جریر ابن عبدالله سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے زکوۃ دینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنے صحابہ سے ایمان تقویٰ پر بھی بیعت لیتے تھے اور نیک اعمال پربھی یعنی میری معرفت رب تعالٰی سے یہ وعدہ کرو کہ ہم نیک اعمال کریں گے گناہوں سے بچیں گے۔بیعت کی بہت قسمیں ہیں یہاں بیعت اعمال مراد ہے۔ بیعت کی اقسام ہماری کتاب شانِ حبیب الرحمن کے ضمیمہ میں ملاحظہ کرو۔ ایک بار حضرت جریر نے ایک شخص سے گھوڑا تین سو درہم میں خریدا سودا طے ہوجانے پر فرمایا کہ تیرا گھوڑا زیادہ قیمت کا ہے اچھا چارسو دوں گا پھر کہا نہیں پانچ سو دوں گا حتی کہ آٹھ سو درہم تک بڑھا کر خرید لیا بائع حیران ہوکر بولا حضرت یہ کیا فرمایا میں نے حضور سے بیعت کی ہے ہر مسلمان کی خیر خواہی پر۔یہ اس پر عمل ہے۔(مرقات)
|
4968 -[22] عَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلاَّ مَن شقي» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے سچے اور سچے کیے ہوئے ابوالقاسم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ رحمت نہیں نکالی گئی مگر بدبخت سے ۱؎(احمد،ترمذی) |
۱؎ یہاں بھی رحمت میں بڑی گنجائش ہے اپنے پر رحم کرنا کہ گناہوں سے بچنا مسلمانوں پر رحم کرنا بلکہ کفار پر رحم کرنا کہ انہیں دعوتِ اسلام دینا بلکہ جانوروں پر رحم کرنا کہ ان کے دانہ پانی کا خیال رکھنا۔مقصد یہ ہے کہ بدبخت کی علامت یہ ہے کہ اس کا دل سخت ہوتا ہے اسے کسی پر رحم نہیں آتا لہذا نیک بخت کی علامت یہ ہے کہ وہ نرم دل ہوتا ہے سب پر رحم کرتا ہے۔
|
4969 -[23] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت عبدالله بن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے ۱؎ تم ان پر رحم کر و جو زمین میں ہیں تم پر وہ رحم کرے گا جو آسمان میں ہے ۲؎(ابوداؤد،ترمذی) |
۱؎ کیونکہ رحم وکرم والے بندے الله تعالی کی صفت و رحمت کے مظہر ہیں الله کے اخلاق سے موصوف ہیں، رحمت سے مراد عام رحمت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع