30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی اگر تین ساتھیوں میں سے دو خفیہ سرگوشی کریں گے تو تیسرے کو اندیشہ ہوگا کہ کوئی بات میرے خلاف طے کی جاوے گی میرے خلاف مشورہ کررہے ہیں،جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو باقی کسی کو یہ خطرہ نہ ہوگا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔خیال رہے کہ یہ ممانعت وہاں ہے جہاں تیسرے کو اپنے متعلق یہ شبہ ہوسکتا ہو اگر یہ شبہ نہ ہو سکے تو بلاکراہت یہ عمل جائز ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنے گھرمیں تشریف فرما تھے کہ فاطمہ زہرا حاضر ہوئیں حضور نے انہیں مرحبا کہا اور ان سے کچھ سرگوشی فرمائی۔
|
4966 -[20] وَعَن تَمِيم الدَّارِيّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ»ثَلَاثًا. قُلْنَا:لِمَنْ؟ قَالَ:«لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت تمیم داری سے ۱؎ کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین خیر خواہی ہے ۲؎ تین بار فرمایا ہم نے عرض کیا کہ کس کی فرمایا الله کی۳؎ اس کی کتاب کی ۴؎ اور اس کے رسول کی ۵؎ اور مسلمانوں کے اماموں کی ۶؎ اور عوام کی ۷؎(مسلم) |
۱؎ آپ کا نام تمیم ابن اوس ابن دار ہے،آپ عیسائی تھے ۹ ہجری میں ایمان لائے،آپ سے کل اٹھارہ احادیث مروی ہیں جن میں سے صرف یہ ایک حدیث صحیحین میں ہے،آپ شب کو نوافل میں ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کرتے تھے اورکبھی ایک آیت صبح تک بار بار پڑھتے اورروتے رہتے تھے،اولًا مدینہ منورہ میں رہے،حضرت عثمان کی شہادت کے بعد شام چلے گئے وہاں ہی وفات پائی،مسجد نبوی میں سب سے پہلے چراغ آپ نے ہی روشن کیے۔(مرقات)چراغ کیا۔
۲؎ نصیحۃ بنا ہے نصح سے بمعنی خالص ہونا عرب کہتے ہیں نصحت العسل عن الشمع میں نے شہد کو موم سے خالص کرلیا۔اصطلاح میں کسی کی خالص خیر خواہی کرنا جس میں بدخواہی کا شائبہ نہ ہو یا خلوص دل سے کسی کا بھلا چاہنا نصیحت ہے،یہ بھی جامع کلمات میں سے ہے کہ اس ایک لفظ میں لاکھوں چیزیں شامل ہیں حتی کہ اعتقاد کو کفر سے خالص کرنا،عبادات کو ریا سے پاک و صاف کرنا،معاملات کو خرابیوں سے بچانا سب ہی نصیحت میں داخل ہیں۔
۳؎ الله کے لیے نصیحت یہ ہے کہ الله تعالٰی کی ذات و صفات کے متعلق خالص اسلامی عقیدہ رکھنا،خلوص دل سے اس کی عبادت کرنا،اس کے محبوبوں سے محبت دشمنوں سے عداوت رکھنا،اس کے متعلق اپنے عقیدے خالص رکھنا اس کی شرح بہت وسیع ہے۔(مرقات)
۴؎ کتاب الله یعنی قرآن مجید کی نصیحت یہ ہے کہ اس کے کتاب الله ہونے پر ایمان رکھنا اس کی تلاوت کرنا،اس میں بقدر طاقت غورکرنا،اس پرصحیح عمل کرنا،اس پر سے مخالفین کے اعتراضات دفع کرنا غلط تاویلوں تحریفوں کی تردید کرنا۔
۵؎ الله کے رسول یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم کی نصیحت یہ ہے کہ انہیں تمام نبیوں کا سردار ماننا ان کے تمام صفات کا اعتراف کرنا جان و مال و اولاد سے زیادہ انہیں پیارا رکھنا انکی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ان کا ذکر بلند کرنا۔
۶؎ اماموں سے مراد یا تو اسلامی بادشاہ اسلامی حکام ہیں یا علماء دین مجتہدین کاملین اولیاء واصلین ہیں۔ان کی نصیحت یہ ہے کہ انکے ہر جائز حکم کی بقدر طاقت تعمیل کرنا،لوگوں کو ان کی اطاعت جائزہ کی طرف رغبت دینا، آئمہ مجتہدین کی تقلیدکرنا،ان کے ساتھ اچھا گمان رکھنا۔(مرقات)علماء کا ادب کرنا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع