30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ یعنی اسے خیانت کرنے کی عادت ہوگئی معمولی چیز حقیر سی امانت میں خیانت کرنے سے باز نہیں رہتا یعنی وہ گنہگار بھی ہو ذلیل طبیعت والا بھی یہ بھی دوزخی ہے یہ عادات خالص دوزخیوں کے ہیں۔
۸؎ صبح شام سے مراد ہمیشہ ہے یعنی وہ دھوکہ دینے کا عادی ہوچکا ہو تم سے جب بھی کلام یا کوئی معاملہ کرے دھوکہ ہی دے یہ بھی دوزخی ہے۔
۹؎ چونکہ راوی کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے وہ الفاظ طیبہ یاد نہ رہے جو حضور نے بخل اور جھوٹ کے متعلق فرمائے اس لیے راوی نے اس طرح بیان کیا،اگر اسے الفاظ طیبہ یاد ہوتے تو باقاعدہ بطریق روایت ارشاد کرتے۔
۱۰؎ شنظیر فحاش بخل وکذب کا معطوف ہے تو نصبی حالت میں ہے یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے شنظیر اور فحاش کا بھی ذکر فرمایا کہ وہ بھی دوزخی ہیں۔شنظیر بروزن خنزیر بمعنی بدخلق سخت طبیعت اور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں مبتداء ہوں اوران کی خبر من اھل النار پوشیدہ ہو تو یہ دونوں مرفوع ہوں گے،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں والفحاش ہے یعنی فحاش معطوف ہے الشنظیر پر تب تو معنی بالکل ظاہر ہیں۔
|
4961 -[15] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤمن أحد حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی بندہ مؤمن نہیں ہوتا حتی کہ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی پسندکرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ فرمان عالی حضور صلی الله علیہ وسلم کے جامع کلمات سے ہے ان چند لفظوں میں دونوں جہان کی خوبیاں جمع ہیں یعنی کوئی شخص مؤمن کامل اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے بھائی مسلمان کے لیے دینی و دنیاوی وہ چیز نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے اسی کا ترجمہ ہے کہ آنچہ بر خود نہ پسندی بہ دیگراں پسند۔خیال رہے کہ یہاں خیر مراد ہے ہر مسلمان کے لیے دنیاو آخرت کی خیر چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو۔اس خیر کا ظہور مختلف طریقوں سے ہوتاہے کسی کے لیے دولت مندی خیر ہے، کسی کے لیے فقیری خیر،کسی کے لیے خلوت خیر ہے،کسی کے لیے جلوت خیر لہذا اگر خلوت نشین مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے جلوت چاہے جسے جلوت بہتر ہو تو اس فرمان کے خلاف نہیں۔تمام مسلمانوں میں پاور ایک ہی ہے مگر پاور کے اثرات مختلف ہیں جیسے پاور ہیٹر میں پہنچے تو گرمی دیتا ہے فریج میں پہنچے تو ٹھنڈک۔(مرقات)
|
4962 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ» . قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله کی قسم نہیں مؤمن ہوتا الله کی قسم مؤمن نہیں ہوتا الله کی قسم مؤمن نہیں ہوتا ۱؎ عرض کیا گیا کون یارسول الله فرمایا وہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے امن میں نہ ہو ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ تین بار فرمانا تاکید کے لیے ہے،لا یؤمن میں کمال ایمان کی نفی ہے یعنی مؤمن کامل نہیں ہوسکتا نہیں ہوسکتا نہیں ہوسکتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع