30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاکساران جہاں رابحقارت منگر توچہ دانی کہ دریں راہ سوارے باشد
صوفیاء کرام اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ حضور نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ تقویٰ و پرہیزگاری یہاں ہے یعنی تقویٰ کی کان پرہیزگاری کا مرکز میرا سینہ ہے،میرے سینہ سے تمام اولیاء و علماء کے دلوں کی طرف تقویٰ کے دریا بہتے ہیں ان سینوں سے عوام کے سینوں کی طرف تقویٰ کی نہریں نکلیں۔ (مرقات)حضور کا سینہ کشف غیوب کا آئینہ ہے کونین میں حضور کی عطائیں بہتی ہیں۔(مرقات)
۳؎ یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں۔
|
4960 -[14] وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ متصدِّقٌ موفق وَرجل رَحِيم رَفِيق الْقلب لكلَّ ذِي قربى وَمُسْلِمٍ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ. وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هم فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَذَكَرَ الْبُخْلَ أَوِ الْكَذِبَ وَ الشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله نے جنتی لوگ تین ہیں ۱؎ وہ حاکم جو عدل والا صدقہ والا توفیق والا۲؎ اور وہ شخص جو رحم اور نرم دل ہو ہر قرابت والے پر۳؎ اور وہ مسلمان جو پاک دامن سوال کرنے سے بچنے والا عیال دار ہو۴؎ آگ والے پانچ ہیں وہ کمزور جس کی خود اپنی کوئی رائے نہ ۵؎ جو کہ تم میں رہیں تمہارے تابع ہو کہ نہ گھر بار چاہتے ہیں نہ مال ۶؎ اور وہ خیانت والا جس کی ہوس ڈھکی چھپی نہیں رہتی اگرچہ معمولی چیز ہو مگر خیانت کرلیتا ہو ۷؎ اور وہ شخص جو نہیں صبح کرتا نہیں شام کرتا مگر وہ تم کو دھوکہ دیتا رہتا ہے تمہارے گھر بار اور تمہارے مال میں ۸؎ اور حضور نے کنجوسی اور جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا ۹؎ اور بدخلق اور فحش گو ۱۰؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی میری امت میں تین قسم کے لوگ یقینًا جنتی ہیں۔
۲؎ یعنی جسے الله حکومت بھی دے تو وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور سلوک کرے اسے خیر کرنے خیر کرانے کی توفیق ملے کہ حاکم درست ہوجانے سے رعایا خود درست ہوجاتی ہے۔
۳؎ یعنی عوام مسلمانوں پر عمومًا اور اپنے عزیز قرابت داروں پر خصوصًا مہربان ہو۔
۴؎ یعنی وہ مسلمان جو باوجود عیالدار ہونے کے کسی سے بھیک نہ مانگے گناہ کے قریب نہ جاوے۔
۵؎ یعنی اس میں اتنی عقل نہ ہو جو اسے برائیوں سے بچائے کبھی آخرت کے نفع نقصان کو سوچتا ہی نہ ہو جانوروں کی طرح صرف کھانے عیش کرنے کی فکر میں لگا رہے۔
۶؎ یعنی حلال بیوی رکھتے نہیں حلال روزی کماتے نہیں محنت سے جی چراتے ہیں،غیر عورتوں پر نظر حرام رکھتے ہیں،غیروں کا مال ناجائز طور پر کھانے کے درپے رہتے ہیں یہ لوگ نرے دوزخی ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع