30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قرار دیا"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ"اور حضور نے یہاں مسلمون کو۔(ازمرقات)خیال رہے کہ یہاں بھائی ہونا رحمت و شفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ احکام کے اعتبار سے۔
۲؎ یسلم بنا ہے اسلام سے جس کا مادہ سلم بمعنی سلامتی ہے ہمزہ سلب کا تو معنی ہوئے سلامت نہ رکھنا یعنی اسے ہلاک کردینا یا مدد کی ضرورت پر اسے بے یار و مددگار چھوڑ دینا۔
۳؎ سبحان الله! کیسا پیارا وعدہ ہے مسلمان بھائی کی تم مددکرو الله تمہاری مدد کرے گا،مسلمان کی حاجت روائی تم کرو الله تمہاری حاجت روائی کرے گا۔معلوم ہوا کہ بندہ بندہ کی حاجت روائی کر سکتا ہے یہ شرک نہیں بندہ بندہ کا حاجت روا مشکل کشا ہے۔
۴؎ یعنی اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خفیہ سمجھا دو کہ اس کی اصلاح ہوجائے اسے بدنام نہ کرو اگر تم نے ایسا کیا تو الله تعالٰی قیامت میں تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے لے گاتمہیں رسوانہ کرے گا،ہاں جو کسی کی ایذا کی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو اس کا اظہار ضرورکردو تاکہ وہ شخص ایذا سے بچ جاوے یا یہ توبہ کرے یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔غرضکہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خفیہ ظلم سے دوسرے کو بچانا یا اس کی اصلاح کرنا بھی اچھا ہے یہ فرق خیال میں رہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے رب تعالی اس کی سات سو عیب پوشیاں کرےگا لہذا کربۃ کی تنوین تعظیمی ہے اور سترہ الله میں سترمطلق بمعنی کامل ہے رب تعالٰی کی عطائیں ہمارے خیالات سے وراء ہیں۔
|
4959 -[13] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَهُنَا» . وَيُشِير إِلَى صَدره ثَلَاث مرار " بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ ومالهُ وَعرضه ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے حقیر جانے ۱؎ تقویٰ یہاں ہے اور اپنے سینہ کی طرف اشارہ فرماتے تھے تین بار۲؎ انسان کے لیے یہ شر کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے مسلمان پر مسلمان کی ہر چیز حرام ہے اس کاخون اس کا مال اس کی آبرو ۳؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو نہ اسے حقارت کے الفاظ سے پکارو یا برے لقب سے یاد کرو نہ اس کا مذاق بناؤ آج ہم میں یہ عیب بہت ہے۔پیشوں،نسبوں،یا غربت و افلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں حتی کہ صوبجاتی تعصب ہم میں بہت ہوگیا کہ وہ پنجابی ہے،وہ بنگالی، وہ سندھی،وہ سرحدی،اسلام نے یہ سارے فرق مٹادیئے۔شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے، مختلف لکڑیوں کو آگ جلادے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے،آم،جامن،ببول کا فرق مٹ جاتا ہے یوں ہی جب حضور کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے حبشی ہو یا رومی۔مولانا جامی فرماتے ہیں شعر
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
۲؎ یعنی اسلام میں عزت تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے اور تقویٰ کا اصلی ٹھکانہ دل ہے۔تمہیں کیا خبر کہ جس مسکین مسلمان کو تم حقیر سمجھتے ہو اس کا دل تقویٰ کی شمع سے روشن ہو اور وہ الله کا پیارا ہو تم سے اچھا ہو شعر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع