30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اس سائل یاحاجت مند کی حاجت روائی کے لیے ہم سے سفارش کرو تم کو سفارش کرنے کا ثواب ملے گا۔ معلوم ہوا کہ حاکم سے حق اور اہل حق کی سفارش کرنا ثواب ہے کہ نیکی کرنا،نیکی کرانا،نیکی کا مشورہ دینا سب ہی ثواب ہے باطل کی سفارش گناہ ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ شرعی حددو میں سفارش حرام ہے اور تعزیرات میں سفارش جائز۔(اشعہ)
۲؎ یعنی اگر ہم تمہاری سفارش کے مطابق فیصلہ کریں تو تمہاری سفارش کی وجہ سے نہ کریں گے بلکہ بہ حکم الٰہی اور اگر سفارش قبول نہ کریں اس کے خلاف فیصلہ کریں تو بھی تمہاری سفارش کی مخالفت سے نہیں بلکہ یہ دونوں عمل بہ حکم الٰہی ہوں گے کیونکہ ہماری زبان پر رب تعالٰی کلام فرماتا ہے ہمارے کام رب کے کام ہیں،ہاں تم کو بہرحال ثواب مل جاوے گا خواہ سفارش قبول ہو یا نہ ہو لہذا تم سفارش قبول نہ ہونے پر ملول نہ ہو اور آئندہ سفارش چھوڑ نہ دو۔
|
4957 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا». فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ: «تَمنعهُ من الظُّلم فَذَاك نصرك إِيَّاه» . |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم ایک شخص نے عرض کیا رسول الله ۱؎ اس کی مظلومیت میں تو مددکروں گا ظالم ہونے پر اس کی مدد کیسے کروں فرمایا اسے ظلم سے روک دو یہ ہے تمہاری اسے امداد ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اپنے بھائی مسلمان کی بہرحال مددکرو خواہ تمہاری مدد اس کو خوش کرے یا مغموم کرے۔
۲؎ یعنی ظالم کو ظلم سے روک دینا ہی اس کی بڑی مدد ہے کہ اسے مظلوم کی بددعاؤں سے الله کے عذاب سے بچا لینا ہے۔ایک شاعر کہتا ہے یعنی قدرت پا کر کسی پر ظلم نہ کرو کہ ظلم کا انجام ندامت ہے تم تو رات کو سو جاؤ گے مگر مظلوم نہ سوئے گا،تم پر رات میں بددعا کرے گا الله کی آنکھ سوتی نہیں وہ اس وقت اس کو دیکھتی ہے۔(مرقات)
|
4958 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎ نہ تو اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے ۲؎ اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہے گا الله اس کی حاجت میں رہے گا اور جو مسلمان سے کوئی تکلیف دور کرے گا اللہ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف دور کرے گا۳؎ اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا قیامت کے دن الله اس کی پردہ پوشی کرے گا۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی مسلمان مسلمان کا دینی و اسلامی بھائی ہے یا مسلمان مسلمان کے لیے سگے بھائی کیطرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا ہے اور مسلمان کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے بھائی بنایا،حضور سے رشتہ غلامی قوی ہے ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور مسلمانوں کے بھائی نہیں حضور تو مثل والد کے ہیں اس لیے حضور کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں بھاوج نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤمن و مسلم ہم معنی ہیں کہ قرآن کریم نے مؤمنوں کو بھائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع