30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ وسلم ایک ہیں لہذا ایک کی تکلیف سارے مسلمانوں کو بے قرار کردیتی ہے مگر یہ کیفیت زندہ مسلمانوں کی ہے جو مردہ یا بےحس ہوگئے وہ مردہ جسم یا سوکھے ہوئے اعضاء کی طرح ہیں کہ ایک کو چوٹ لگاؤ دوسرے کو خبر نہ ہو۔
۲؎ یعنی ایک عضو کو بیماری ہو تو سارے اعضاء بے قرار ہوکر اس کی تکلیف دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب تک اسے آرام نہ ہوجاوے یہ چین سے نہیں رہتے،یوں ہی ایک مسلمان کی تکلیف کو ساری قوم مل کر دفع کرتی ہے اس کے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی۔الله تعالٰی ہم سب کو اپنے محبوب سے وابستگی نصیب کرے اور ہمارے قوم کا یہ ہی حال ہوجاوے اب تو یہ حال ہے۔ مصرع! سوئی ہوئی قومیں جھاگ اٹھیں بیدارمسلما ن سوتاہے۔
|
4954 -[8] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُله» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مسلمان ایک شخص کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ دکھے تو سارا جسم بیمار ہوجاوے اور اگر اس کا سر درد کرے تو سارا جسم بیمار ہوجاوے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی قوم مسلم گویا ایک جسم ہے،افراد مسلم گویا اس جسم کے اعضاء،ایمان مسلم گویا اس جسم کی جان ہے۔حرارت و غیرت ایمانی کو گویا ایمان سے تعلق ہے اس تعلق کا نتیجہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی تکلیف سارے افراد کی تکلیف ہے۔خیال رہے کہ غدار مسلمانوں کو قوم سے نکالنا ایسا ہے جیسے گلے سڑے عضو کو جسم سے کاٹ دینا تاکہ اس کا فساد دوسرے اعضاء میں نہ پہنچے۔
|
4955 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» ثُمَّ شَبكَ بَين أَصَابِعه. |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا مسلمان مسلمان کے لیے دیوار کی طرح ہے کہ اسکا بعض سے بعض مضبوط ہوتا ہے ۱؎ اور اپنی انگلیوں کو گتھا دیا ۲؎ |
۱؎ یعنی مؤمنوں کے دنیاوی اور دینی کام ایک دوسرے سے مل جل کر مکمل ہوتے جیسے مکان کی دیوار میں ایک دوسرے سے مل کر مکان مکمل کرتی ہے۔
۲؎ اس طرح کہ ایک ہاتھ شریف کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں داخل کردیں یعنی گتھا دیں یہ سمجھانے کے لیے کہ جیسے یہ انگلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوگئیں ایسے ہی مسلمان ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں کہ یہ کبھی بے تعلق نہیں ہوسکتے گتھانے والے یا حضرت ابو موسیٰ اشعری ہیں یا حضور صلی الله علیہ وسلم یہ مثال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مسلمانوں کے بعض کے بعض پر حقوق ہیں۔
|
4956 -[10] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ:«اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَان رَسُوله مَا شَاءَ» . |
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ جب حضور کے پاس سوالی یا حاجت مند آتا تو فرماتے اے صحابہ سفارش کرو ثواب دیئے جاؤ گے ۱؎ اور الله اپنے رسول کی زبان پر جو چاہے فیصلہ فرمائے ۲؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع