30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ مرآت کی دوسری جلد باب السوال میں گزر گیا کہ بعض مجبوریوں میں مانگنا جائز ہے،یہ بی بی صاحبہ انہیں مجبوریوں میں پھنسی ہوں گی اس لیے اسے سوال درست تھا۔
۲؎ یعنی میرے پاس سواء ایک کھجور کے اور کچھ نہ تھا میں نے وہ اسے دے دی۔معلوم ہوا کہ جہاں تک ہوسکے فقیر کو کچھ دے دو تھوڑے بہت کا خیال نہ کرے،فقیر بھی تھوڑے کی شکایت نہ کرے تھوڑی چیز قبول ہو جاوے تو بہت ہے اگر بہت سی چیز قبول نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں۔
۳؎ یعنی وہ خود بھی بھوکی تھی اس کی دونوں بچیاں بھی بھوکی تھیں مگر اس نے بچیوں کو کھلادیا خود کچھ نہ کھایا یہ ناممکن ہے کہ خود سیر ہو اور بچیاں بھوکی ہوں۔
۴؎ معلوم ہوا کہ بیٹیاں ملنا بھی رب کی طرف سے آزمائش ہے اکثر لوگ اس سے گھبرا جاتے ہیں اس پر صبر کرنا چاہیے کہ بے صبری سے اجربھی جاتا رہتا ہے۔
۵؎ یعنی یہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہوں گی کہ وہ دوزخ میں جائے گا ہی نہیں یا اگر گیا تو وہاں دوزخ کی آگ اس تک نہ پہنچ سکے گی،یہ بیٹیاں پردہ بن کر اسے محفوظ رکھیں گی مگر شرط یہ ہی ہے کہ ان پر گھبرائے نہیں،ان سے اچھا سلوک کرے۔اس اجر کی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں سے لوگوں کو بہت امید یں وابستہ ہیں کہ جوان ہوکر ہماری خدمت کریں گے لڑکیوں پرخرچ ہی کرنا ہوتا ہے وہ بھی بغیر کسی امید کے مگر دیکھا گیا ہے کہ آج کل بمقابلہ لڑکوں کے لڑکیاں ماں باپ کی خدمت بھی زیادہ کرتی ہیں اور انکے مرے بعد ختم فاتحہ زیادہ لڑکیاں ہی کرتی ہیں کوئی خوش نصیب ہی لڑکوں سے آرام پاتے ہیں اکثر لڑکے بدنام اور بربادی کرتے ہیں۔
|
4950 -[4] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ هَكَذَا» وضمَّ أصابعَه. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو دو لڑکیوں کو پائے حتی کہ وہ جوان ہو جاویں تو میں اور وہ قیامت کے دن ایسے آئیں گے اور اپنی انگلیوں کو ملایا ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی خوش دلی سے دو لڑکیوں کو پال دینا خواہ اپنی بیٹیاں ہوں یا بہنیں ہو یا یتیمہ بچیاں قیامت میں مجھ سے قرب کا ذریعہ ہے اور جسے اس دن حضور کا قرب نصیب ہوجاوے اسے سب کچھ مل جاوے۔شعر
گر محمد کا ساتھ ہوجائے پھر تو سمجھو نجات ہوجائے
|
4951 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالسَّاعِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَأَحْسَبُهُ قَالَ:«كَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ لَا يفْطر» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بے شوہر والی اور مسکینوں پر خرچ کرنے والا الله کی راہ میں خرچ کرنے والے کی طرح ہے ۱؎ مجھے خیال ہے کہ فرمایا اس کی طرح جو تھکے نہیں اور اس روزے دار کی طرح جو افطار نہ کرے ۲؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع