30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان ۱؎
۱؎ شفقت بنا ہے شفق سے بمعنی ڈر و خوف،پھر اصطلاح میں شفقت اس مہربانی کو کہتے ہیں جو ڈر کے ساتھ ہو یعنی کسی پر مہربانی کرنا اس ڈر سے کہ ان پر مہربانی نہ کرنا الله تعالیٰ کے ناراضی کا باعث ہے۔رحمت کسی پر بلا استحقاق مہربانی کرنا، رحمت دو قسم کی ہوتی ہے: رحمت عامہ اور رحمت خاصہ یہاں دونوں رحمتیں مراد ہیں۔
|
4947 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ» . |
روایت ہے حضرت جریر ابن عبدالله سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله اس پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ یہ فرمان عالی یا بطور بد دعا ہے یا بطور خبر یعنی خدا اس پر رحم نہ کرے یا رحم نہ کرے گا،لوگوں پر رحمت الله تعالیٰ کا خاص کرم ہے۔
|
4948 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عائشةَ قَالَتْ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ؟ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ. فَقَالَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «أوَ أملكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ» . |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک بدوی نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کیا آپ لوگ بچوں کو چومتے ہیں ہم تو نہیں چومتے تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تیرے لیے اس کا مالک ہوں کہ الله نے تیرے دل سے رحم نکال لیا ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی تم لوگوں کا اپنے بچوں کو نہ چومنا اس لیے ہے کہ رب تعالٰی نے تمہارے دلوں سے رحم وکرم نکال دیا ہے ،جن کے دلوں سے الله رحم نکال دے اس کے دل میں ہم رحمت و کرم کس طرح ڈالیں ہم تو الله کی رحمتوں کے دروازہ ہیں۔
|
4949 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ. فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: «مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ» . |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں تھیں مجھ سے کچھ مانگتی تھیں ۱؎ تو اس نے میرے پاس ایک چھوہارے کے سوا کچھ نہ پایا میں نے اسے وہ ہی دے دیا ۲؎ اس نے وہ اپنی لڑکیوں میں بانٹ دیا اس میں سے خود نہ کھایا ۳؎ پھر اٹھی اور چلی گئی پھر نبی صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے حضور کو یہ خبر دی تو فرمایا جو کوئی بیٹیوں میں مبتلا کردیا جاوے ۴؎ پھر ان سے اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوجائیں گی ۵؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع