30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4945 -[35] وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كلُّ الذنوبِ يغفرُ اللَّهُ مِنْهَا مَا شاءَ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّهُ يُعَجَّلُ لِصَاحِبِهِ فِي الحياةِ قبلَ المماتِ» |
روایت ہے ابی بکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تمام گناہوں میں سے الله جو چاہے بخش دے گا ۱؎ سوا ماں باپ کی نافرمانی کے کہ اس شخص کے لیے موت ہے پہلے زندگی میں ہی سزا دیتا ہے ۲؎ |
۱؎ یعنی الله تعالٰی ہر قسم کے گناہ صغیرہ و کبیرہ اگر چاہے گا تو معاف فرمادے گا اس قاعدے سے شرک و کفر اور حق العباد خارج ہیں کہ شرک و کفر تو زندگی میں ایمان لائے بغیر معاف نہیں ہوتے اور حقوق العباد ادا کیے بغیر معاف نہیں ہوتے،نیز تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے جو کہ آگے آرہا ہے۔
۲؎ لصاحبہ میں ہ ضمیر عقوق کی طرف ہے اور الممات میں الف لام مضاف الیہ کی عوض ہے اس سے مراد یا تو خود یہ نافرمان بیٹا ہے یا ماں باپ۔خیال رہے کہ یہ فرمان عالی سخت ناراضی کے اظہار کے لیے ہے لازمی قانون کے لیے نہیں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔(مرقات) یا اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جس گناہ پر دنیا میں بھی عذاب آجاتا ہے وہ ماں باپ کو ستانا ہے،شرک و کفر پر دنیا میں عذاب آنا لازم نہیں،ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں چین نہیں پاتا۔
|
4946 -[36] وَعَن سعيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم:«حقُّ كبيرِ الإِخوَةِ على صَغِيرِهِمْ حَقُّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأحاديثَ الخمسةَ فِي «شعب الْإِيمَان» |
روایت ہے حضرت سعید ابن العاص سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ چھوٹے بھائی پر بڑے بھائی کا حق ایسا ہے جیسے باپ کا حق اولاد پر ۲؎ ان پانچ حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا۔ |
۱؎ آپ حضرت عمرو ابن عاص کے بھائی ہیں،ہجرت کے سال پیدا ہوئے،قریش کے سرداروں میں سے تھے،حضرت عثمان غنی کے زمانہ میں قرآن مجید جمع کرنے والوں میں آپ بھی تھے،حضرت عثمان نے آپ کو کوفہ کا حاکم مقرر فرمایا تھا،طبرستان کے فاتح آپ ہی ہیں، ۵۹ انسٹھ میں وفات ہوئی،ایک سعید ابن عاص ابن امیہ بھی ہیں وہ یہاں مراد نہیں۔
۲؎ یعنی بڑے بھائی کا حق اس قسم کا ہے جس قسم کا حق باپ کا اپنی اولاد پر ہے،یہاں تشبیہ نوعیت میں ہے مقدار حق مراد نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع