30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4942 -[32] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَمُوتُ وَالِدَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا وَإِنَّهُ لَهُمَا لَعَاقٌّ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو لَهُمَا وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمَا حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ بارا» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی بندہ جس کے ماں باپ یا ان میں سے ایک فوت ہوجاوے اور وہ ان کا نافرمان ہو ۱؎ پھر وہ ان کے لیے دعا کرتا رہے بخشش مانگتا رہے حتی کہ الله اسے نیک کار لکھ دیتا ہے۲؎ |
۱؎ ماں باپ کی نافرمانی میں حق الله کی تلفی بھی ہے اور حق العباد کی بربادی بھی لہذا یہ اسلامی گناہ بھی ہے اور ماں باپ کا حق مارنا بھی اور گناہ بھی ہے کبیرہ۔
۲؎ یعنی یہ نافرمان والدین کی وفات کے بعد اولًا نافرمانی سے توبہ کرے پھر مرتے دم تک ان کے لیے گناہوں کی بخشش کی دعا اور ایصال ثواب کرتا رہے تو رب تعالٰی بزرخ میں اس کے ماں باپ کو اس سے راضی کردے گا اور اس کا گناہ کبیرہ تھا بغیر توبہ معاف نہیں ہوتا۔(مرقات)آپ ماں باپ کے بعد ان کا تیجہ،چالیسواں،برسی وغیرہ اور وقتًا فوقتًا ان کے نام پر خیرات جو کیا کرتے ہیں ان سب کی اصل یہ حدیث ہے بلکہ ہر نمازی نماز ختم ہوتے وقت ماں باپ کو دعائیں دے کر سلام پھیرتا ہے رب اغفرلی ولوالدی۔
|
4943 -[33] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مُطِيعًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا. وَمَنْ أَمْسَى عَاصِيًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ النَّارِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا» قَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ ظَلَمَاهُ؟ قَالَ: «وَإِنْ ظلماهُ وإِن ظلماهُ وإِنْ ظلماهُ» |
روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو الله کے لیے اپنے ماں باپ کے بارے میں مطیع ہو ۱؎ تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۲؎ اگر ان میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ اور جو اپنے والدین کے متعلق الله کا نافرمان ہو اس کے لیے آگ کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۳؎ اگر ایک ہو تو ایک دروازہ ایک شخص نے عرض کیا اگرچہ وہ ظلم کریں فرمایا اگرچہ اس پر ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں ۴؎ |
۱؎ یہاں لله فرماکر دو مسئلے بتائے: ایک یہ کہ ماں باپ کی اطاعت اپنی ناموری یا رزق میں برکت کے لیے نہ کرے بلکہ محض اس لیے کرے کہ الله تعالٰی کا حکم ہے رب تعالٰی اس سے راضی رہے۔دوسرے یہ کہ ان کی فرمانبرداری ناجائز باتوں میں نہ کرے اگر وہ نماز روزے سے روکیں تو نہ مانے۔
۲؎ کہ اگر اس حال میں مرجاوے تو مرتے ہی ان میں داخل ہوجاوے۔دو دروازے کھولنا اس کی عزت افزائی کے لیے ہے ورنہ جنت میں داخلہ کے لیے ایک دروازہ کھلنا ہی کافی ہے۔حضرت ابوبکر صدیق کے لیے جنت کے ہر دروازہ پر پکار پڑے گی کہ ابو بکر ادھر سے آئیے۔خلاصہ یہ ہے کہ ماں کی خدمت کا دروازہ علیٰحدہ ہے باپ کی خدمت کا دروازہ علیٰحدہ ممکن ہے کہ ان دونوں دروازوں میں فرق ہو ماں کی خدمت کا دروازہ عظیم الشان ہو کہ ماں کی خدمت اعلیٰ ہے۔والله اعلم!
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع