دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۱۵؎  یعنی میں کنواری بھی ہوں پارسا بھی ابھی تک نہ خاوند کے پاس گئی نہ کسی اجنبی کے پاس۔مہر سے مراد پردہ بکارت ہے جو پہلی صحبت پر ٹوٹتا ہے یعنی مجھ سے زنا نہ کر رب یہاں بھی دیکھ رہا ہے۔

۱۶؎  گناہ نہ کرنا بھی کمال ہے مگر نازک حالات میں گناہ سے ہٹ جانا بڑا کمال،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"اور فرماتاہے:"اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی" میں  نے اپنی دی ہوئی نقدی بھی واپس نہ لی بطورِ صدقہ اس کو دے دی یہ اشرفیاں عورت کے لیے ابھی حرام تھیں اب حلال ہوگئیں یہ ہے انقلاب حقیقت۔

۱۷؎  چنانچہ اب اتنی کشادگی ہوگئی کہ دھوپ بھی غار میں آنے لگی مگر ابھی اتنی کشادگی نہیں ہوئی کہ یہ لوگ نکل سکتے اس لیے تیسرا بولا۔

۱۸؎  فرق اس پیمانے کا نام ہے جس میں سولہ رطل یعنی قریبًا آٹھ سیر دانہ سماتا ہے یعنی میں نے اسے آٹھ سیر دھان(منجی)کے عوض مزدور رکھا۔

۱۹؎  یعنی مزدور نے اپنی مزدوری مانگی میں نے پیش کردی مگر کسی وجہ سے اس نے اس مزدوری دھان پر قبضہ نہ کیا اور غائب ہوگیا۔

۲۰؎  اس طرح کہ وہ کئی سال تک نہ آیا میں اس زمانہ میں اس کے دھان بوتا کاٹتا رہا ہر سال وہ بڑھتے رہے حتی کہ چند سالوں میں اس کا مال بہت بڑھ گیا،بیل اور غلام بھی اس آمدن سے خریدلیے گئے۔اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے مال کو فضول آدمی اگر تجارت میں لگا کر بڑھا دے تو جائز ہے اس میں گناہ نہیں۔حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ایک دینار بکری خریدنے کے لیے دیا انہوں نے ایک بکری خرید کر دو دینار میں فروخت کردی پھر ایک دینار میں دوسری بکردی خریدی پھر دینار اور بکری حضور کی بارگاہ میں لائے سرکار نے اس عمل پر ناراضی نہ فرمائی بلکہ ان کے لیے دعاء برکت کی۔(مرقات)اس سے بہت مسائل فقیہہ مستنبط ہوسکتے ہیں: (۱)مسجد،یتیم اور غائب آدمی کا متولی ان کے مال کو تجارت میں لگاسکتا ہے(۲) اس صورت میں سارا نفع مالک ہی کا ہوگا کام کرنے والے کو اس سے کچھ نہ ملے گا(۳) اس صورت میں یہ متولی اجرت نہ پائے گا کیونکہ مالک نے اسے اس کام کا حکم نہ دیا تھا(۴)ماں باپ کی خدمت،پاک دامنی اور خدمت خلق اعلیٰ درجہ کی نیکیاں ہیں (۵)فی زمانہ حکومتیں اپنے ملازمین کی تنخواہ سے کچھ فنڈ کاٹتی ہیں ملازمت سے الگ ہونے پر یہ جمع شدہ رقم مع زیادتی دیتی ہیں یہ سود نہیں ملازم کے لیے حلال ہے کیونکہ ملازم قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے اس فنڈ کی رقم کا مالک قابض نہ بنا لہذا وہ رقم دین نہیں یہ نفع سود نہیں،حکومت اس فنڈ سے تجارت کرتی ہے اس تجارتی نفع سے اس ملازم کو دیتی ہے اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۲۱؎ وہ سمجھا کہ میری مزدوری چند سیردھان تھے یہ اتنی زیادہ دولت پیش کررہا ہے مجھ سے دل لگی کررہا ہے۔

۲۲؎ بعض روایات میں ہے کہ اسے دس ہزار درہم دیئے یا تو یہ مال اس قیمت کا تھا یا یہ نقدی بھی اس تمام مال کے ساتھ تھی نیک نیتی کی برکت سے یہ کثرت ہوئی۔

۲۳؎  اس حدیث سے جہاں اور مسائل معلوم ہوئے وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ کرامات اولیاء حق ہے اور حضرات اولیاء مقبول الدعاء ہوتے ہیں یہ تینوں اس زمانہ کے اولیاء تھے۔(مرقات)حدیث شریف میں ہے کہ مظلوم کی بددعا سے بچو اگرچہ کافر ہی ہو کہ مظلوم کی بددعا رائیگاں نہیں جاتی،اس کی نفیس تحقیق یہاں مرقات میں دیکھو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن