30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ معلوم ہوا کہ اپنے نیک اعمال کے توسل سے دعا کرنا چاہیے کہ یہ بھی ذریعہ قبولیت ہے اور جس کے پاس اپنی نیکیاں نہ ہوں جیسے ہم گنہگار تو وہ مقبول بندوں کی نیکیوں کی توسل سے دعا کریں جیسے ہم کہیں کہ خدایا حضور محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم کے مقبول سجدوں کا توسل،حضرت حسین کی پیاری شہادت کا صدقہ،حضور غوث پاک کی اطاعتوں کے طفیل ہم کو اچھا خاتمہ اور تقویٰ توفیق دے انکے نیک اعمال یقینًا مقبول ہیں۔
۲؎ یعنی ماں باپ بوڑھے تھے بچے چھوٹے دونوں کمزور تھے میری خدمت کے حاجت مند ان سب کا میں ہی کفیل تھا۔
۳؎ معلوم ہوا کہ بوڑھے ماں باپ کو اپنی چھوٹی اولاد پر ترجیح دینا بھی نیکی ہے کہ پہلے ان کی خدمت کرے بعد میں بچوں کو سنبھالے۔
۴؎ یعنی اپنی بکریاں چرانے کے لیے مجھے دور جانا پڑا قریب میں مجھے کوئی درخت نہ ملا جس کے پتے جھاڑ کر بکریاں چراؤں اس لیے گھر دیر میں لوٹا۔
۵؎ یعنی میں جنگل سے رات گئے واپس ہوا پھر دودھ دوہتے ہوئے دیر ہوئی دودھ گرم کرنے میں اور وقت لگا حتی کہ جب میں والدین کے پاس لایا تو وہ سوچکے تھے یا یہ مطلب ہے کہ میرے آتے وقت ہی وہ سوچکے تھے اگر جاگتے ہوتے تو انہیں جلدی دھو کرپلا دیتا۔حلاب کے معنی ہیں دودھ یا دودھ کا برتن جس میں دودھ دوہا جاتا ہے۔
۶؎ خیال رہے کہ یہ بچوں پر ظلم نہیں بلکہ ماں باپ کا احترام ہے بوڑھے ماں باپ بھی بچوں کی طرح ہی ہوجاتے ہیں،جو انہیں تکلیف دے تو اس کی اولاد اس کے بڑھاپے میں اس کو ایذا دے گی یہ خدمت یا ایذا رسانی نقد سودا ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔(مرقات)
۷؎ صبح کو وہ اٹھے تو میں نے پہلے انہیں دودھ پلایا پھر بچوں کو دیا۔ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص رات بھر کھڑا رہا بچے کچھ دیر چیخ چلا کر سو گئے ہوسکتا ہے کہ بچے بار بار سوتے جاگتے رہے ہوں والدین سوتے رہے ہوں یہ کھڑا رہا ہو۔
۸؎ اس عرض و معروض میں رب کے علم میں تردد نہیں بلکہ اپنے اخلاص میں شک اور تردد ہے یعنی اگر میرے دل میں اخلاص ہوگا تب تو جانتا ہی ہوگا۔
۹؎ کیونکہ اس بند غار میں ہمارا دل گھٹ رہا ہے اس بے کسی بے دردی میں تو ہی ہمارا والی وارث ہے۔
۱۰؎ اس طرح کہ پتھر میں قوی جنبش پیدا ہوئی اور وہ خود بخود سرک گیا یا کسی فرشتے نے کام کیا بہرحال رب تعالٰی نے ان کی دستگیری کی۔
۱۱؎ یعنی یہ محبت چچازاد بہن ہونے کی نہ تھی بلکہ میں اس کا عاشق ہوگیا تھا عشق بھی شہوت کا تھا نہ وہ عشق مجازی جو عشق حقیقی کا ذریعہ ہے۔ مصرع! این فساد خوردن گندم بو
۱۲؎ یہاں طلب ہی ارسال کے معنی ہیں اسی لیے بعد میں ایسا ارشاد ہوا یعنی میں نے اسے کہلا بھیجا کہ تو اپنی ذات میرے حوالے کردے زنا کے لیے۔(مرقات)
۱۳؎ یعنی اس نے زنا کرانے کی اجرت سو اشرفیاں مانگیں اسی اجرت کو خرچی کہتے ہیں۔
۱۴؎ اس طرح کہ میں نے اسے سو اشرفیاں کما کر دے دیں اس نے اپنا نفس مجھے حوالہ کردیا اور ہم دونوں تنہائی میں جمع ہو گئے اور زنا کے لیے بالکل تیار ہوگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع