دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

چاہیے۔احترام میں تعظیم و اکرام بھی داخل ہے اور ان کی خدمت ان پر مال خرچ کرنا بھی شامل ہے،بیٹا باپ کے دوستوں ماں کی سہیلیوں سے سلوک کرے۔

4937 -[27]

وَعَن أبي الطُّفَيْل قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ؟ فَقَالُوا: هِيَ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابو طفیل سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں نے نبی  صلی الله علیہ وسلم کو مقام جعرانہ میں گوشت تقسیم فرماتے دیکھا ۲؎ کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں حتی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے قریب ہوگئیں تو حضور نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی وہ اس پر بیٹھ گئیں۳؎  میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حضور کی وہ ماں ہیں جنہوں نے حضور کو دودھ پلایاہے ۴؎ (ابوداؤد)

۱؎ آپ کا نام عامر ابن واثلہ ہے،امیر المؤمنین علی رضی الله عنہ کے خاص ہمراہیوں میں سے ہیں،آخری صحابی جن کی وفات ہوئی آپ ہی ہیں،آپ کی وفات سے دور صحابہ ختم ہوا۔

۲؎  جعرانہ مکہ معظمہ سے ایک منزل فاصلہ پر ہے طائف کے راستہ میں میدان حنین سے متصل ہے غزوہ حنین کے بعد حضور انور نے یہاں سولہ دن قیام فرمایا یہاں ہی حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں۔

۳؎ الله اکبر بادشاہوں کے ایلچی آئیں تو جوتوں پر بیٹھیں جبریل امین آئیں تو التحیات کی طرح حضور کے سامنے دو زانو بیٹھیں مگر یہ خوش نصیب بی بی حاضر ہوں تو ان کے لیے چادر بچھائی  جس پر وہ بیٹھیں یہ ہے دودھ کی ماں کی عزت و احترام ۔

۴؎  یہ والدہ حضرت حلیمہ بنت ابی ذویب ہیں جو قبیلہ ہوازن کی ایک بی بی ہیں حضور کی شیر خوارگی کی مدت آپ نے پوری کرائی،غزوہ حنین کے موقعہ پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں،آپ ان کے لیے کھڑے ہوگئے اور اپنی چادر مبارک بچھادی۔حق یہ ہے کہ ثویبہ اور حلیمہ اسی طرح حلیمہ کے خاوند مسلمان ہوگئے۔بی بی خدیجہ سے جب حضور انور نے نکاح کرلیا تو ثویبہ حضور کے پاس آیا کرتی تھیں حضور ان کا بہت احترام فرماتے تھے اور مدینہ منورہ سے ثویبہ کے لیے کپڑے وغیرہ ہدایا بھیجا کرتے تھے،بی بی ثویبہ کی وفات فتح خیبر کے بعد ہے۔دیکھو(مرقات،اشعہ)

الفصل الثالث

تیسری فصل

4938 -[28] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا ثَلَاثَة نفر يماشون أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَمَالُوا إِلَى غَارٍ فِي الْجَبَلِ فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ صَالِحَةً فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا. فَقَالَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ بَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ وَلَدِي وَإِنَّهُ قَدْ نَأَى بِي الشَّجَرُ فَمَا أَتَيْتُ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُؤُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَأَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِالصِّبْيَةِ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ فَفَرَجَ اللَّهُ لَهُمْ حَتَّى يرَوْنَ السماءَ قَالَ الثَّانِي: اللَّهُمَّ إِنَّه كَانَ لِي بِنْتُ عَمٍّ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا فَأَبَتْ حَتَّى آتيها بِمِائَة دِينَار فلقيتها بِهَا فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا. قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ فَقُمْتُ عَنْهَا. اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي. فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَتَرَكَهُ وَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي وَأَعْطِنِي حَقِّي. فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقْرِ وَرَاعِيهَا فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بكَ فخذْ ذلكَ البقرَ وراعيها فَأخذ فَانْطَلَقَ بِهَا. فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ فَفَرَجَ الله عَنْهُم ".

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں جب کہ تین آدمی چل رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا تو وہ پہاڑ میں ایک غار کی طرف چلے گئے تو ان کے غار کے منہ پر پہاڑ کی ایک چٹان آگری تو ان کو ڈھک لیا تب ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان نیک اعمال کو سوچو جو تم نے الله کے لیے کیے ہوں اس کے وسیلہ سے الله سے دعا کرو ۱؎ کہ الله اسے کھول دے تو ان میں سے ایک بولا الٰہی میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میرے بچے چھوٹے تھے ۲؎  میں ان کے لیے جانور چراتا تھا جب میں شام کو ان کے پاس آتا دوہتا تو اپنے ماں باپ سے ابتداءکرتا کہ انہیں اپنے بچوں سے پہلے پلاتا۳؎  مجھے ایک درخت دور لے گیا ۴؎ تو میں نہ لوٹا حتی کہ شام ہوگئی پھر میں نے ان دونوں کو پایا کہ سو گئے تھے ۵؎ میں نے دودھ دوہا جیسے دوہا کرتا تھا پھر میں دودھ لایا تو ان کے سر کے پاس کھڑا ہوگیا میں ان کو جگانا پسند نہ کرتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ ان سے پہلے بچوں سے ابتداءکروں ۶؎  اور بچے میرے قدموں کے پاس بھوک سے رو رہے تھے میری ان کی حالت یہ ہی رہی حتی کہ صبح طلوع ہوگئی ۷؎  تو اگر تو جانتا ہو کہ میں نے یہ تیری رضا کی تلاش کے لیے کیا ہے ۸؎  تو اتنی کشادگی کردے جس سے ہم آسمان دیکھ لیں ۹؎  چنانچہ الله نے ان کے لیے اتنا کھول دیا کہ وہ آسمان دیکھنے لگے ۱۰؎  دوسرا بولا الٰہی میری چچا زاد تھی جس سے میں بہت ہی محبت کرتا تھا۱۱؎ جیسی مرد عورتوں سے کرتے ہیں میں نے اس کی طرف اس کے نفس کے مطالبہ کے لیے بھیجا۱۲؎  اس نے انکار کیا حتی کہ میں اس کو سو دینار دوں۱۳؎  چنانچہ میں نے محنت کی حتی کہ سو دینار جمع کرلیے پھر میں اس کے پاس وہ لایا جب میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں بیٹھا ۱۴؎ تو وہ بولی اے الله  کے بندے الله سے ڈر،مہر نہ کھول ۱۵؎ میں اس کے سامنے اٹھ کھڑا ہوگیا ۱۶؎ الٰہی تو اگر تو جانتا ہو کہ میں نے یہ تیری رضا کی تلاش کے لیے کیا تو اس میں اور زیادہ کشادگی کردے تو الله نے اورکشادگی فرمادی ۱۷؎ تیسرا بولا الٰہی میں نے مزدور رکھا تھا چاول کے ایک پیمانہ کے عوض ۱۸؎  تو جب اس نے اپنا کام پوراکرلیا تو کہا مجھے میرا حق دے دو میں نے اس پر اس کا حق پیش کیا وہ اسے چھوڑ گیا ۱۹؎  اس سے بے رغبتی کی میں اس چاول کو بوتا رہا حتی کہ میں نے اس سے بیل اور چرواہے جمع کرلیے ۲۰؎  پھر وہ میرے پاس آیا بولا الله سے ڈر اور مجھ پر ظلم نہ کر مجھے میرا حق دے دے میں نے کہا ان بیلوں اور چرواہوں کی طرف جا وہ بولا الله سے ڈر مجھ سے دل لگی نہ کر ۲۱؎  میں نے کہا کہ میں تجھ سے دل لگی نہیں کرتا تو یہ بیل اور چرواہے لے لے اس نے قبضہ کرلیا اور لے گیا ۲۲؎  تو اگر تو جانتا ہو کہ میں نے یہ تیری رضا کی تلاش کے لیے کیا تو باقی ماندہ بھی کھول دے رب نے پھر ان سے کھول دیا ۲۳؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن