30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
السَّیِّاٰتِ"۔دوسرے یہ کہ چھپے گناہ کی توبہ بھی چھپ کر ہی کرے،ہاں علانیہ گناہ کی توبہ علانیہ کرے التوبۃ علی قدر الحوبۃ توبہ گناہ کے حد کی ہو اس سے نبی کریم کے علم غیب کا بھی ثبوت ہوا۔
|
4936 -[26] وَعَن أبي أسيد السَّاعِدِيّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِي من برِّ أبويِّ شيءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ قَالَ:«نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ابو اسید ساعدی سے فرماتے ہیں جب کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھے کہ بنی سلمہ کا ایک آدمی آیا عرض کیا یارسول الله کیا میرے والدین کی بھلائیوں میں سے کوئی بھلائی باقی ہےجو میں ان کی موت کے بعد ان سے کروں ۱؎ فرمایا ہاں ان کے لیے دعا رحمت ان کی بخشش کی دعا ان کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا جو ان ہی کی وجہ سے ہی جوڑے جائیں۲؎ اور ان کے دوستوں کا احترام کرنا ۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،انصاری ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،آپ سے بہت محدثین نے روایات کیں آخر میں نابینا ہوگئے تھے،۷۸ اٹھتر سال عمر پائی، ۶۰ھ ساٹھ میں وفات ہوئی،آپ سارے بدری صحابہ میں آخری صحابی تھے کہ آپ کی وفات سے بدری صحابہ کا سلسلہ ختم ہوا،بڑی عظمتوں برکتوں والے تھے رضی الله عنہ۔ یعنی میرے ماں باپ کا انتقال ہوچکا ہے اب میں ان سے کوئی سلوک کیسے کروں دل چاہتا ہے کہ سلوک کا سلسلہ قائم رہے۔
۲؎ یعنی اب تم ان کے ساتھ چار قسم کے سلوک کرسکتے ہو: ایک تو ان کے لیے دعاء خیر اور ان کے گناہوں کی معافی کی رب سے درخواست،دعا میں نماز جنازہ بھی داخل ہے۔(مرقات)ہر نماز کے آخر میں رب اغفرلی و لوالدی پڑھنا بھی،ان کے نام پر صدقات و خیرات کرنا بھی،ان کی طرف سے حج بدل کرنا یا کرانا بھی،ان کا تیجہ،دسواں،چالیسواں،برسی وغیرہ کرنا بھی غرضکہ یہ ایک لفظ بہت جامع ہے یعنی ان کی وصیت پوری کرنا اس کے علاوہ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی سے جو وعدہ کیا ہو اور بغیر پورا کیے مر گئے ہوں وہ پورا کرنا اس میں ادائے قرض بھی داخل ہے۔بعض لوگ اپنے والدین کی اچھی رسمیں باقی رکھتے ہیں یہ بھی اسی میں داخل ہے،اگر ماں باپ کسی تاریخ میں خیرات کرتے تھے یا میلاد شریف گیارھویں کرتے تھے تو وہ ہمیشہ نبھاتے ہیں،جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے اس مسجد کی آبادی کی کوشش کرتے ہیں،جس خانقاہ سے انہیں عقیدت تھی اس خانقاہ سے وابستہ رہتے ہیں یہ صورتیں اسی حدیث میں داخل ہیں۔
۳؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جن عزیزوں سے رشتہ صرف ماں یا باپ کی وجہ سے ہو دوسری وجہ سے نہ ہو ان سے سلوک کرنا کہ یہ میرے والدین کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اس میں بھائی بہن،چچا ماموں،پھوپھی خالہ سب ہی داخل ہیں۔دوسرے یہ کہ خالص رضاء والدین کے لیے ان سے سلوک کرنا اپنی ناموری یا شہرت وغیرہ کو دخل نہ دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندوں کی رضا کے لیے کام کرنا بھی بعض صورتوں میں ثواب کا باعث ہے لہذا حضور کی رضا کے لیے نیک اعمال کرنا بالکل جائز ہے شرک یا گناہ نہیں نبی کریم کا حق ماں باپ سے زیادہ ہے،مرقات وا شعہ نے اسی دوسرے احتمال کو اختیار کیا۔غرضکہ ان عزیزوں کی والدین کی رضا کے لیے خدمت کرے اور والدین کی رضا الله رسول کی رضا کے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع