30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4211 -[53] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ آپ کے پاس ثرید کا پیالہ لایا گیا ۱؎ تو فرمایا کہ اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کے بیچ سے نہ کھاؤ ۲؎ کیونکہ برکت برتن کے بیچ میں اترتی ہے۔(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے اور ابوداؤد کی روایت ہے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پیالے کے اوپر سے نہ کھائے لیکن اس کے نیچے سے کھائے ۳؎ کیونکہ برکت اس کے اوپر سے اترتی ہے ۴؎ |
۱؎ ثرید بنا ہے ثرد سے بمعنی بھگونا اور تر کرنا۔اصطلاح میں ثرید یہ ہے کہ روٹی کے ٹکڑے شوربے میں بھگوئے جائیں،ثرید حضور انور کو پسند تھا،طبی لحاظ سے بھی ثرید زود ہضم اور مفید ہے حضور کی یہ ادا حکمت سے پُر ہے۔قصعہ وہ بڑا پیالہ ہے جس سے چند آدمی بیک وقت کھاسکیں حضور صلی الله علیہ وسلم اکیلے کھانا نہ کھاتے تھے جماعت کے ساتھ کھاتے تھے۔کسی نے کیا خواب کہا ہے۔
خوردہ ہماں بہ کہ بہ سبہا خوری حیف براں خوردہ کہ شبہا خوری
۲؎ یعنی ہر شخص اپنے سامنے والے کنارہ سے کھائے بیچ پیالے سے نہ کھائے،درمیان پیالہ نزول رحمت کی جگہ ہے درمیان پر الله کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
۳؎ یہاں بھی نیچے سے مراد اپنے سامنے والا کنارہ ہے اور اوپر سے مراد پیالہ کا درمیانی حصہ ہے مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔درمیانی پیالہ حد مشترک ہے اور پیالہ کے کنارے ہر کھانے والے کا حق ہے۔بیچ سے کھانا حرص کی علامت ہے، حریص رحمت الٰہی سے محروم ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے کھانے کے وقت بھی رحمت باری کا نزول ہوتا ہے خاص کر جب کہ سنت کی نیت سے کھایا جائے۔
۴؎ نیچے سے مراد برتن کے کنارے ہیں جہاں سے کھانے والے کھائیں گے اور اوپر سے مراد درمیان برتن ہے،چونکہ یہ درمیانی جگہ قدر مشترک ہے اس لیے برکت کا وہاں ہی نزول مناسب ہے۔اس فرمان عالی میں برکت اور رحمت کو اس پانی سے تشبیہ دی گئی جو اوپر یعنی اونچی جگہ میں اترے اور وہاں سے چو طرفہ کناروں میں پہنچ جائے۔
|
4212 -[54] وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عقبه رجلَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تکیہ لگاکر کھاتے کبھی نہ دیکھا گیا ۱؎ اور نہ دو شخص آپ کی ایڑیوں کو روندتے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی نہ تو کسی چیز کی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے نہ اپنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر کھاتے کہ یہ طریقہ متکبرین کا ہے، اکثر اوکڑوں بیٹھ کر کھاتے کہ یہ طریقہ متواضعین کا ہے۔
۲؎ یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم راہ میں دو آدمیوں سے بھی آگے نہ چلتے تھے تاکہ آپ اپنی بڑائی ظاہر کریں بلکہ آپ سب کے ہمراہ چلتے تھے،یہ تو تھی حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی اپنی عادت کریمہ مگر قدرتی کرشمہ یہ تھا کہ حضور بہت آہستہ چلتے اور ساتھی تیز چلتے تب بھی آپ کے ہمراہ نہ چل سکتے تھے پیچھے ہی رہ جاتے تھے گویا زمین حضور کے لیے لپیٹی جاتی تھی جیساکہ ان شاءالله باب المعجزات میں آوے گا۔اسی طرح بہت لمبے قد والے حضرات آپ کے ساتھ ہوتے مگر سب سے اونچے آپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع